05:33 pm
پیپلزپارٹی کی قیادت کو سلام، ان کی حکومت 100درجے بہتر تھی

پیپلزپارٹی کی قیادت کو سلام، ان کی حکومت 100درجے بہتر تھی

05:33 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی صداقت علی عباسی سیاسی حریف پاکستان پیپلز پارٹی کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی خرم دستگیر نے کہا کہ حکومتی نمائندے ٹی وی کے اشتہار کی طرح کہتے ہیں کہ پیچھے دیکھو پیچھے۔یہ لوگ اپنا جواب نہیں دیتے۔
ان کو شرم آنی چاہئیے جنہوں نے گیس پہلے 45 فیصد اور پھر 200 فیصد مہنگی کی۔ شرم ان کو آنی چاہئیے جنہوں نے دوائیاں چار سو فیصد مہنگی کیں۔ شرم ان کو چاہئیے جنہوں نے بجلی پہلے تیس فیصد مہنگی کی اور اب پچاس فیصد مہنگی کر دی ہے۔ شرم ان کو آنی چاہئیے جنہوں نے پیسے کی قدر 40 فیصد کم کی ۔شرم ان کو آنی چاہئیے جنہوں نے 11 فیصد مہنگائی کر کے عوام کی گردن توڑ دی۔شرم ان کو آنی چاہئیے جن کی وجہ سے پاکستان کی صنعتیں اور زراعت سکڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان کو شرم آنی چاہئیے کیونکہ گذشتہ ایک سال میں پاکستان کی بد ترین معاشی کارکردگی رہی ہے۔ جس پرپاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی صداقت علی عباسی نے کہا کہ مجھے آپ یہ بتا دیں گے کہ اگر پیپلز پارٹی ایک سال میں ایک ڈھائی ارب ڈالرز کا خسارہ چھوڑتی ہے، تو مسلم لیگ ن ،جو کامیابی کا دعویٰ کرتی ہے ، نے اگلے سال 8 ارب ، اُس سے اگلے سال 12 ارب اور اُس سے اگلے سال بیس ارب کا خسارہ چھوڑا۔اگر مسلم لیگ ن ہوتی تو ملک دیوالیہ ہو جاتا ۔ آج ہم نے اس خسارے کو بارہ ارب روپے کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن سے سو گُنا اچھی ہے۔ میں لائیو ٹی وی پر کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کے فارن سیکٹر میں مسلم لیگ ن نے جو بربادی کی ، 20 ارب کا جو خسارہ ہوا، اگر ہم چار ارب اور لیں تو جو شاہد خاقان عباسی معیشت چھوڑ کر گئے تھے وہ پورے ہوں گے۔ صداقت علی عباسی نے مزید کہا کہ اگر آپ کا بائیس ارب کا خسارہ ہو گا تو کرنسی ڈی ویلیو ہو گی ، ہم آگے تب دیکھیں گے جب پیچھے کا اثر ختم ہو گا۔ ہم پیچے کو دیکھ کر ہی آگے چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کو سلام ہے۔

تازہ ترین خبریں