05:34 pm
حکومت مریم نواز کی تقاریر سے ڈر گئی، مجھے گرفتار کیوں کیا گیا، عرفان صدیقی نے اصل کہانی بتادی

حکومت مریم نواز کی تقاریر سے ڈر گئی، مجھے گرفتار کیوں کیا گیا، عرفان صدیقی نے اصل کہانی بتادی

05:34 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کےسینئرصحافی عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ شک ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر لکھنے کی پاداش میں مجھے گرفتار کیا گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں معاون خصوصی برائے قومی امور رہنے والے عرفان صدیقی کو جمعے کی راتاسلام آباد سے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔عرفان صدیقی نے اس وقوعے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اتوار کو میری رہائی کس کے کہنے پر ہوئی، یہ گھر 4 دن پہلے کرائے پر دیا گیا تھا، مجھے عدالت میں اس حالت میں پیش کرکے دنیا کو کیا پیغام دیا گیا
۔عرفان صدیقی نے اس وقوعے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اتوار کو میری رہائی کس کے کہنے پر ہوئی، یہ گھر 4 دن پہلے کرائے پر دیا گیا تھا، مجھے عدالت میں اس حالت میں پیش کرکے دنیا کو کیا پیغام دیا گیا۔جب کہ اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عرفان صدیقی کا شاید مریم نوازکی تقاریر لکھناکسی کو ناگوار گزرا ہے،گھر کا پورشن کرائے پر دیا اور اس کو گرفتار کرلیا ،اندازہ لگائیں اگر نوازشریف سے لفافے لیے ہوتے تومکان کرائے پر نہ دیتا۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرفان صدیقی کالج استاد ہیں، پھر کالم لکھتے رہے، اور پھر وہ نوازشریف کے معاون خصوصی بن گئے۔لیکن جب انہوں نے حکومتی عہدہ سنبھالا توپھر کالم لکھنا چھوڑ دیا۔جبکہ یہاں بہت سارے صحافی حکومتی عہدوں کے ساتھ کالم لکھنا جاری رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک قصور یہ ہے کہ وہ نوازشریف کی تقاریر لکھتے تھے اب وہ مریم نوازکی تقاریر لکھ رہے ہیں۔ جس پر انہیں کرائے داری ایکٹ پر گرفتار کیا گیا۔گھر کا پورشن کسی کو کرائے پر دیا اور اس پر گرفتار کرلیا گیا۔اس سے اندازہ لگائیں کہ عرفان صدیقی کی حالت یہ نہیں ہے کہ ان کو اپنا خرچہ چلانے کیلئے گھرکرائے پر دینا پڑا، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نوازشریفنے صحافیوں کو بڑے لفافے دیے، اگر لفافے دیے ہوتے توعرفا صدیقی سب سے زیادہ امیر ہوتے۔انہوں نے کہا کہ میں نے جتنی صحافی کی ہے ، کالم نگاروں ، میڈیا ورکرزاور رپورٹرز پر پابندیاں لگتی ہیں، مار پڑتی ہے، ہم خود سپریم کورٹ گئے تھے، کہ ہمارا بھی احتساب کرو ، اور باقی لوگوں کا احتساب بھی کرو۔

تازہ ترین خبریں