05:44 pm
قائداعظم کا اسلامی جمہوریہ پاکستان ایسا نہیں تھا‘

قائداعظم کا اسلامی جمہوریہ پاکستان ایسا نہیں تھا‘

05:44 pm

لاہور (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رمیش کمار کا کہنا ہے کہ صرف مولانا فضل الرحمٰن ہی نہیں بلکہ ہر سیاسی جماعت کے اندر مذہب کارڈ استعمال کیا جاتا ہے اور نان ایشوز کو ایشوز بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ہر مذہب دوسرے مذہب کی عزت کرنا سکھاتا ہے۔ہم بھی ہر مذہب کی عزت کرتے ہیں،لیکن مذہب کے اوپر سیاست کرنا، اسے اپنا ایجنڈا بنا لینا، یہ کہہ دینا کہ میں ڈی چوک پر دھرنا دوں گا یہ غلط ہے۔نہ جانے یہ لوگ ملک کے اندر کیا چاہتے ہیں
۔رمیش کمار نے مزید کہا کہ قائداعظم کا اسلامی جمہوریہ پاکستان اور تھا۔لیکن ان کی وفات کے ایک سال بعد ہی کچھ جماعتوں نے اس نظریے کو بلکل الگ کر دیا۔رمیش کمار نے کہا کہ ہر جماعت کے اندر مذہب کارڈ کھیلنے والے لوگ موجود ہیں۔خاص طور پر تحریک انصاف کے اندر بہت زیادہ ایسے لوگ موجود ہیں کیونکہ میں نے بل کے اوپر دیکھا۔جب میں نے بل پیش کیا تو مجھے 90فیصد سپورٹ پیپلز پارٹی نے کیا تھا،70 فیصد ن لیگ نے جب کہ اپنی جماعت سے مجھے تیس فیصد ہی سپورٹ ملی ہو گی۔ان معاملات کی وجہ سے ہمارے ملک کا امیج بہت خراب ہوا۔جب کہ دوسری جانب حکومت کیخلاف تحریک کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمان کو 2 بڑی اتحادی جماعتوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے مذہبی معاملات پر جمعیت علمائے اسلام ف کے احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اس وقت ملک میں ناموس رسالت کا کوئی مسئلہ نہیں۔ناموس رسالت کا معاملہ کسی سیاست کا محتاج نہیں ،پوری قوم اس پر متفق ہے تاہم ہم سیاست میں مذہبی کارڈ کا استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ ن لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے ان کی جماعت ناموس رسالتﷺ اور دیگر دینی معاملے میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ احتجاج میں نہیں کھڑی۔ تاہم مستقبل میں اگر پارٹی نے محسوس کیا تو پھر حالات کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمن ایک الگ تحریک چلا رہے ہیں اور اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، ہمارا تعلق مولانا سے ہے ان کی اس مذہبی تحریک سے نہیں۔