05:13 pm
فضل الرحمن کے جلسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد سے پریشان حکومت مولانا کے ملین مارچ کوناکام بنانے کیلئے کیا منصوبہ بنانے لگی

فضل الرحمن کے جلسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد سے پریشان حکومت مولانا کے ملین مارچ کوناکام بنانے کیلئے کیا منصوبہ بنانے لگی

05:13 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اگر مولانا فضل الرحمان مدارس کے بچوں کو اسلام آباد لاکر دھرنا دینے کی کوشش کریں گے تو حکومت کیا کرے گی؟اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف اینکر عمران خان نے اندر کی خبردیدی۔عمران خان نے کہا کہ یہ جو مدارس کے بچوں کو لاکر احتجاج کی بات کرتے ہیں اس حوالے سے حکومت نے بہت سنجیدہ بحث کی ہے۔حکومت نے اس کو ہینڈل کرنے کے لیے پورا طریقہ کار بنا لیا ہے
کہ ان کو کس طرح سے کم سے کم کرنا ہے۔تو حکومت یہاں پر بھی مولانا فضل الرحمن کے لیے ایک چیلنج کھڑا کرنے جا رہی ہے۔اس سے قبل یوم سیاہ کے موقع پر مولانا فضل الرحمان کی ریلی میں مدرسے کے بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ 25 جولائی کو عام انتخابات کو ایک سال مکمل ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے یوم سیاہ منایا۔اس موقع پر جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں مدرسوں کے بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی جنہیں کچھ علم نہیں تھا کہ انہیں آخر کار کیوں یہاں لایا گیا ہے۔جب کہ دوسری جانب میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ : جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو اکتوبر تک مستعفی ہونے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے اسلام آباد کی جانب حکومت مخالف مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم اب اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے حکمت عملی بھی تیار کر لی ہے جبکہ کارکنان کو ملین مارچ کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے چندہ مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد لاک ڈاؤن کے حوالے سے مختلف امور کی انجام دہی کے لیے درجن سے زائد کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں جو شرکا کی آمد ورفت سے لے کر ان کی رہائش اور کھانے پینے کا تمام انتظام کریں گی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر سے دوہزار سے زیادہ افراد نے جمیعت علمائے اسلام کے اعلان کردہ ملین مارچ کے لیے تیس کروڑ روپے فراہم کرنے کا بھی وعدہ کرلیا ہے۔جے یو آئی کی کچھ عرصہ قبل ہی ملک بھر میں فوری طورر نئی تنظیم سازی کی گئی جس کے بعدان عہدیدران نے وفاق المدارس سے منسلک 18600 مدارس کے مہتمین سے رابطے شروع کئے جنہیں حکومت کے خلاف تحریک میں طلبا کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے راضی کیا گیا۔ یاد رہے کہ وفاق المدارس سے منسلک مدارس میں اس وقت جز وقتی اور کل وقتی تعلیم حاصل کرنے والے بیس لاکھ کے قریب طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں اور جمعیت علما اسلام اس طبقہ فکر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سمجھی جاتی ہے۔سیاسی ماہرین کے مطابق مولانافضل الرحمن نے سیاسی طور پر پارلیمان سے آؤٹ ہونے کے بعد اب اپنا سیاسی کیرئیر داؤ پر لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے لیے وہ اپنی جماعت کے تمام وسائل اس میں جھونکنے جارہے ہیں اور دینی طلبا کی سیاسی جماعت کے احتجاج میں شرکت کسی بھی طور ملک کے لیے بہتر نہیں ہوگی۔

تازہ ترین خبریں