02:53 pm
متحدہ اپوزیشن آپس کے جھگڑوں کی بجائے غیر جمہوری قوتوں پر فوکس کرے، بلاول بھٹو

متحدہ اپوزیشن آپس کے جھگڑوں کی بجائے غیر جمہوری قوتوں پر فوکس کرے، بلاول بھٹو

02:53 pm

لاہور(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن ایک دوسرے پر الزام لگانے کی بجائے دھاندلی کرنے والی کٹھ پتلی حکومت او رغیر جمہوری قوتوں پر فوکس کرے اور اصل چہرے سامنے لے کر آئے، ہمارے دو سینیٹرز کے مطابق ان سے جہانگیر ترین اور گورنر پنجاب نے کسی ذریعے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی،
حقائق جاننے کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی ہے اور تحقیقات میں ثابت ہونے تک کسی کو پارٹی سے نہیں نکالا جا سکتا لیکن حقائق سامنے آنے پر ضرور کارروائی کی جائے گی ِ،جو کہتے ہیں سندھ حکومت ہٹا دیں گے وہ اسے ہٹا کر دکھائیں ہم 90روز میں ضمنی انتخابات میں پہلے سے زیادہ اکثریت کے ساتھ واپس آئیں گے، ماضی میں حساس ادارے کا سیاست اور دھاندلی میں کردار رہا ہے امید ہے کہ موجودہ سربراہ اپنے ادارے کو سیاست سے دور رکھیں گے اور اسے متنازعہ نہیں بننے دیں گے، ہم پتہ ہے آرٹیکل 6 کہاں لگتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ بلاول ہاؤس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ملک کی معیشت جس حال میں ہے وہ سب کے سامنے ہے، عوام،مزدور،کسان،نوجوان اورصحافیوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کے معاشی حقوق کا تحفظ کیا ہے اور ہم رسمجھتے ہیں کہ جب تک انسانی حقوق محفوظ نہیں ہوں گے تب تک ہمارے معاشی حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔جہاں متحدہ اپوزیشن کے جلسے جلوس ہوں گے ہم ساتھ ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ آج کل جمہوریت کے ساتھ جو کیا جارہا ہے وہ سب کے سامنے ہے،اب یونین کونسل سے لے کر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب تک بیلٹ بکس کی تکریم نہیں رہی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لئے تاریخی جدوجہد کی ہے۔یہ پیغام آ رہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کو شکست ہوئی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ حکومت کو شکست ہوئی ہے، غیر جمہوری جمہوری قوتوں کوشکست ہوئی کیونکہ وہ بے نقاب ہوئے ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کو اندازہ تھا کہ ہم ہا رسکتے ہیں اورامید تھی کہ ہم جیتیں گے ، ہمارا مارجن بڑا تھا لیکن جو دھاندلی کر کے جیتے ہیں وہ خود بے نقاب ہوئے ہیں۔ پورے ملک کے سامنے کھلے عام دھاندلی ہوئی، پورے ملک نے دیکھا کہ کیسے64سینیٹرز کھڑے ہوئے او رپھر خفیہ ووٹنگ میں 50 ووٹ نکلے۔پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو اخلاقی طو رپر استعفیٰ دینا چاہیے کیونکہ اتنے زور اور دھاندلی کے باوجود آپ اکثریت کا اعتماد نہیں رکھتے، پچاس سینیٹرز نے آپ کو ہٹانے کا ووٹ دیا جبکہ چالیس نے ساتھ آ پ کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے 21سینیٹرز نے اپنے استعفے جمع کر ادئے ہیں لیکن ابھی تک کسی کا استعفیٰ قبول نہیں کیا،اس کے لئے ہم نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی ہے جو سارے مراحل کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس وقت تک کسی کو پارٹی سے نہیں نکالا جا سکتا لیکن رپورٹ ملنے کے بعد ضرور ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی پہلے اعلان کر چکے ہیں کہ خفیہ بیلٹ سے ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی ا س نظام کی تبدیلی میں متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دے گی اورغیر جمہوری قوتوں کی جانب سے جو ڈاکہ جاتا ہے اس کو ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے لوگوں سے تحقیقات کرے گی اورامید ہے کہ دوسری جماعتیں بھی اس طرح کااقدام اٹھائیں گی، مجھے اعتماد ہے کہ میرے سینیٹرز سو فیصد میرے ساتھ ہیں۔ بجٹ ووٹنگ اور سینیٹ کے انتخاب کے موقع پر بھی ہمارے سو فیصد سینیٹرز موجود تھے۔ ہم نے پوری دلچسپی کے ساتھ یہ مہم چلائی ہے، میں جانتا ہوں کہ میڈیا کو حکم دیا گیا ہے کہ ان قوتوں کوجنہوں نے دھاندلی کی ہے ان پر کسی طرح کا شک نہ ڈالیں اور اپوزیشن کو آپس میں لڑائیں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپوزیشن کسی کے پارٹی ممبران پر الزام نہ لگائیں۔ جب (ن) لیگ پر ڈیل کرنے کے جھوٹے الزام لگائے گئے تو میں نے اس سے انکار کیا اگر اب میری جماعت پر ناجائز الزام لگا دیا جائے تو یا میری جماعت کے رکن کی طرف نہیں بلکہ میر طرف اشارہ ہے اور میرے خلاف بات ہے ۔ میں اپنے سینیٹرز کی ذمہ داری لیتا ہوں اور باقی جماعتوں کوبھی یہی کردار ادا کرنا چاہیے اور آنر شپ لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اس کا جائزہ لے گی کہ کن سینیٹرز کو پیسوں کی پیشکش کی گئی اور دوسری جماعتیں بھی اس کیا جائزہ لیں۔اگر یہ کہا جائے کہ کسی کو شک کی بنا ء پر پارٹی سے نکال دیا جائے تو میں ایسا نہیں کر سکتا بلکہ میں تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کروں گا اور میری کوشش ہو گی کہ اصل چہرے سامنے آئیں او رایسے لوگ پی ٹی آئی یا دوسری جماعتوں کو جوائن کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت کٹھ پتلی حکومت اور دھاندلی کرانے والی غیر جمہوری قوتوں پرفوکس کرنا چاہیے کہ کس طر یقے سے غیر جمہوری رویے اور سلیکشن سے وفاداریاں تبدیل کی گئیں اور ان 14لوگوں کی وجہ سے سب پر شک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمیں اور موقعوں پر نہیں بخشا جاتا تو کیا وہ ہمیں اس ماحول میں چھوڑ یں گے، کیا مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی او رفضل الرحمان نے جمع تفریق نہیں کی ہو گئی۔ حکومت ایکسپوز ہو گئی ہے اور ہمیں چاہیے کہ حکومت کو بے نقاب کریں،میں ہر فورم پر سیاسی حیثیت میں حکومت کو بے نقاب کرتا رہوں گا۔

تازہ ترین خبریں