10:19 am
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ، کیا اب گلگت بلتستان کو بھی پاکستان میں ضم کر دیا جائے گا ؟

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ، کیا اب گلگت بلتستان کو بھی پاکستان میں ضم کر دیا جائے گا ؟

10:19 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر بھارت کے اس اقدام کی خوب مذمت کی جا رہی ہے۔ اسی بحث کے دوران پاکستان کی ایک خاتون صحافی نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب بالآخر گلگت بلتستان کو بھی پاکستان میں ضم کر دیا جائے گا ؟ خاتون صحافی کے اس سوال پر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہوا۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ بھارت نے جو بھی کیا
یہ اُن کا فیصلہ ہے لیکن ہمیں اس طرح کا کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے ملکی مفاد کو مد نظر ضرور رکھنا چاہئیے۔ جبکہ باقی صارفین نے بھی اس تجویز کی حمایت کی کہ پاکستان کو ایسے کسی قدم کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئیے کیونکہ ایسا کرنے سے ملکی مفاد کو ٹھیس پہنچے گی۔ خیال رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھارتی وزیرداخلہ نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل پیش کیا ، تجویز کے تحت غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکیں گے۔ بعد ازاں بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے اور گورنر کاعہدہ ختم کرکے اختیارات کونسل آف منسٹرز کو دے دیئے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔ واضح رہے کہ بھارت کے آئین میں کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کی شق 35 اے کے تحت غیر کشمیری مقبوضہ وادی میں زمین نہیں خرید سکتے۔ 35 اے دفعہ 370 کی ایک ذیلی شق ہے جسے 1954ء میں ایک صدارتی فرمان کے ذریعہ آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت جموں و کشمیر کو بھارتی وفاق میں خصوصی آئینی حیثیت حاصل دی گئی تھی۔ آرٹیکل 35 اے، بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا حصہ ہے۔ آرٹیکل 370 کی وجہ سے جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے نہ ہی ملازمتوں پر حق رکھتا ہے۔ یہی آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔اسے ہٹانے کی کوشش کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر رہا ہے۔ آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس ہیں جن میں سکیورٹی، خارجہ امور اور کرنسی شامل ہیں۔ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس ہیں۔

تازہ ترین خبریں