01:15 pm
 پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر بڑے ایکشن کا مشورہ دیدیا گیا

پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر بڑے ایکشن کا مشورہ دیدیا گیا

01:15 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی برادری کا انتظار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر بڑے ایکشن کا مشورہ دیدیا گیا ۔۔معروف صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ ہمیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اب عالمی عدالت سے رجوع کرنا چاہئیے۔حامد میر نے کہا کہ بھارت اگر کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی عدالت لے جا سکتے ہیں تو پاکستان یہ مسئلہ عالمی عدالت میں لے کر کیوں نہیں جا سکتا
۔اس کے علاوہ پاکستان نے جو انڈیا کے ساتھ بیک ڈور رابطے رکھے ہوئے ہیں یہ سب بھی فوری طور پر بند کرنا ہو گا،یہ بعد میں دیکھا جائے گا کہ عالمی برادری کیا کرتی ہے پہلے ہمیں خود کچھ کر کے دکھاناہو گا۔ فی الحال ہم نے بس کل پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس بلایا ہے،وزیراعظم عمران خان اور پارلیمنٹ کی طرف سے ایک ایسی قرارداد منظور کرنی چاہئیے۔جس میں یہ بتایا جائے کہ بھارت آج جو بھی کر رہا ہے وہ افغان میں ہونے والے امن کے حوالے سے جاری مذاکرات کی وجہ سے کر رہا ہے۔ کیونکہ اگر افغانستان میں کوئی اچھی تبدیلی آئے گی تو اس سے کشمیر کی تحریک کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ حامد میر نے مزید کہا کہ مودی نے آج جو حرکت کی ہے یہ دراصل اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ پر تمانچہ مارا ہے۔مجھے ٹرمپ کی گالوں پر مودی کے تھپڑ کے نشان نظر آ رہے ہیں۔حامد میر نے مزید کہا کہ اب پاکستان کی حکومت کو صرف مذمتی بیانات تک محدودنہیں رہنا چاہئیے بلکہ پاکستان کو یہ اعلان کرنا چاہئیے کہ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی حمایت نہیں کریں گے۔واضح رہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو سالہ رکنیت کے لیے پاکستان نےبھارت کی حمایت کی تھی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے ایشیا پیسفک گروپ نے اجتماعی طور پر دو سال کے لیے غیر مستقل نشست کے لیے بھارت کی حمایت کی۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کی اس حمایت پر پاکستان کے سینئر تجزیہ کار حامد میر نے بھی اعتراض کیا اور سوال بھی اٹھایا تھا۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں حامد میر کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان نے بھارت کی حمایت کردی لیکن پُرانا بھارت پاکستان کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس معاملے پر نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تو بھارت کی حمایت کی ہے، لیکن کیا بھارت پاکستان کے لیے ایسا کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمران خان کے علاوہ کو ئی اور وزیر اعظم ہوتا تو ایسا کرتا؟ اور اگر وہ وزیراعظم ایسا کرتا بھی تو اس کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل کیا ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی ایسا کرتے تو ان کو مودی کا یار کہا جاتا ۔ حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کی جانب سے بھارت کی اس طرح کی حمایت حیران کن ہے۔

تازہ ترین خبریں