10:47 am
’’مسئلہ کشمیر پرپارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی‘‘

’’مسئلہ کشمیر پرپارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی‘‘

10:47 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی عدم موجودگی پرصحافیوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں خاتون صحافی غریدہ فاروقی نے کہا کہ یہ شدید قابل مذمت ہے۔نہ وزیراعظم عمران خان اور نہ ہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔ اگرچہ وزیراعظم صاحب کچھ دیر میں پارلیمنٹ پہنچیں گے
لیکن انہیں اجلاس کے آغاز پر ہی پارلیمنٹ میں ہونا چاہئیے تھا۔ انہوں نے وزیر خارجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کوکابینہ سے نکال دینا چاہئیے۔اس قدر ایمرجنسی کی صورتحال میں بھی شاہ محمود قرییش نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔اس معاملے پر ایک اور سینئیر صحافی ڈاکٹر دانش نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو اپنی نااہلیت پہ فوراً استفیٰ دینا چاہئیے۔ اتنا ناکام اور بے خبر وزیرخارجہ آج تک نہیں آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی مان سکتا ہے کہ بقول ٹرمپ مسئلہ کشمیرپر مودی ثالثی پر تیاراوردوسری طرف چند دن بعد کشمیرکی آئینی حیثیت ہی تبدیل ہو گئی۔ٹرمپ نے خان کوزبردست لولی پاپ دے دیا ہے۔واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا جس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور کلسٹر بموں کے استعمال پر بحث کے لیے تحریک پیش کی تاہم تحریک میں آرٹیکل 370 کے بنیادی معاملے کو شامل نہ کرنے پراپوزیشن نے شدید احتجاج جس کے بعد اعظم سواتی نے آرٹیکل 370 کو بحث میں شامل کرنے کی ترمیمی تحریک پیش کی۔اپوزیشن کے مطالبے پر آرٹیکل 370 کے نفاذ سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کی تحریک منظور کرلی گئی اور اسپیکر اسد قیصر نے بحث کے آغاز کے لئے وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو مائیک دیا تاہم بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے نہ کروانے پر اپوزیشن نے ایوان میں شدید احتجاج کیا اور مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کا بھی مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی پر اسپیکر کو اجلاس بیس منٹ کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آغاز پر ایوان میں موجود نہیں تھے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں جس وجہ سے وہ اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔

تازہ ترین خبریں