10:01 am
ہم افغانستان سے ہاتھ کھینچ لیں گے پاکستان کو تنگ نہیں کریں گے، بدلے میں کشمیر کے معاملے میں ہمیں کچھ نہ کہا جائے

ہم افغانستان سے ہاتھ کھینچ لیں گے پاکستان کو تنگ نہیں کریں گے، بدلے میں کشمیر کے معاملے میں ہمیں کچھ نہ کہا جائے

10:01 am

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)ہم افغانستان سے ہاتھ کھینچ لیں گے پاکستان کو تنگ نہیں کریں گے، بدلے میں کشمیر کے معاملے میں ہمیں کچھ نہ کہا جائے، بھارت اور امریکا کے درمیان پس پردہ طے پانے والے مبینہ معاملات کی تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں تعینات رہنے والے پاکستان کے سابق سفیر ڈاکٹر عبدالباسط کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے
تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ بھارت نے افغانستان کے مسئلے کے حوالے سے امریکا کیساتھ پس پردہ معاملات طے کیے اور مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کیلئے ٹرمپ کو اعتماد میں لیا۔ ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ بھارت نے امریکا کو یقین دلایا کہ اگر اسے کشمیر کے معاملے پر تنگ نہ کیا جائے، تو وہ افغانستان سے اپنا ہاتھ کھینچ لے گا، اور پاکستان کیلئے مشکلات پیدا نہیں کرے گا۔ اسی وجہ سے امریکا نے مودی کو کشمیر کی خود مختار حیثیت بدلنے کی اجازت دی ہوگی۔ دوسری جانب معروف دفاعی تجزیہ کار زید حامد کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے جو کشمیر کے ساتھ کیا ہے، امریکا کو یہ سب کچھ معلوم تھا۔ زید حامد کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے داماد جیرڈ کشنر اور مودی نے مل کر مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جو کچھ ہوا ہے یہ سب کچھ اچانک نہیں ہے، اس تمام منصوبے کی طویل عرصے سے منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ واضح رہے کہ پیر کے روز بھارت نے آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ بھارت کے صدر سے کشمیر سے متعلق 4 نکاتی ترامیم پر دستخط کیے جس کے بعد اس حوالے سے صدارتی حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر اب سے بھارتی یونین کا علاقہ تصور کیا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گا۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی علیحدہ سے اسمبلی ہو گی۔ آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر سے باہر کے لوگ وہاں اپنے نام پر زمین نہیں خرید سکتے۔ کل مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارتی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا تھا جس میں بھارتی وزیر داخلہ نے مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کو ختم کرنے سے متعلق ایک قرارداد پیش کی جس کے بعد مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کی ایک کے سوا باقی تمام شقیں ختم کردیں۔ بھارتی وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ آرٹیکل 370 اے ختم کر دیا ہے۔ جس کے تحت غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل نہیں کر سکتے۔بھارت کے آئین میں کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کی شق 35 اے کے تحت غیر کشمیری مقبوضہ وادی میں زمین نہیں خرید سکتے۔ 35 اے دفعہ 370 کی ایک ذیلی شق ہے جسے 1954ء میں ایک صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔