03:30 pm
غریدہ فاروقی نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

غریدہ فاروقی نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

03:30 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا جس پر رد عمل دیتے ہوئے خاتون صحافی غریدہ فاروقی نے کہا کہ پارلیمان میں جو تماشہ ہوا مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا اس حکومت کو علم نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے۔ شاید ہم میں سے کسی کو بھی یہ سمجھ نہیں آرہی کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے۔
ہم شاید اس کو نارمل لے رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے ، ہمیں یہ بات سمجھ ہی نہیں آ رہی ۔ اوپر سے وزیر خارجہ بھی موجود نہیں ہیں ۔ ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے اپوزیشن نے جو شور مچایا اور جس طرح پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی ہوا اس کے بعد وزیر خارجہ ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کو حج کی وزارت دے دینی چاہئیے۔ خاتون صحافی غریدہ فاروقی نے مزید کہا کہ شاہ محمود قریشی کو حج کی وزارت دی جانی چاہئیے تاکہ وہ خود بھی حج کریں اور لوگوں کو بھی حج کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے رونے کا مقام ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جو پالیسی بیان دیا ؟ کیا یہ پالیسی بیان تھا ؟ کیا وہ ہمیں تاریخ بنانے آئے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم عمران خان نے ہم سے ہی پوچھنا ہے کہ کیا کرنا ہے تو ان کو چاہئیے کہ مجھے وزیراعظم بنا دیں میں ان کو بتا دیتی ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گذشتہ روز پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا جس میں وزیراعظم عمران خان نے پالیسی بیان دیا۔ تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سعودی عرب میں حج کی غرض سے موجود ہونے کی وجہ سے اس اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے جن پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم شاہ محمود قریشی نے حج چھوڑ کر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی پیش نظر وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور آج صبح ہی وہ وطن واپس پہنچ گئے ۔

تازہ ترین خبریں