03:39 pm
عید کے بعد قومی خزانے میں اربوں کی بارش، حکومت نے پاکستانیوں کو خوشخبری سنادی

عید کے بعد قومی خزانے میں اربوں کی بارش، حکومت نے پاکستانیوں کو خوشخبری سنادی

03:39 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شزاد اکبر نے کہا ہے کہ گذشتہ دور میں ملی بھگت سے حدیبیہ پیپلز ملز کیس کو ختم کیا گیا۔ عید کے فوری بعد 9 سے 10 ارب کی ریکوری ہونے والی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شہزاد اکبر کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف نے 90ء دہائی میں چوہدری شوگر ملز کے لیے 15 ملین ڈالر کا قرضہ لیا۔یہ قرضہ بحرین میں لیا گیا اور سبسڈی آف شور کمپنی کے زریعے لی گئی۔ابھی قرض کی رقم پاکستان نہیں پہنچی۔شوگر مل پہلے ہی قائم ہو گئی۔
بیرونی قرض سے شوگر مل کے لیے مشینری لی جانی تھی۔منی لانڈرنگ کے لیے قاضی خاندان کو استعمال کیا گیا جو پہلے ہی بیان حلفی میں اس کا عتراف کر چکا ہے۔شہزاد اکبر نے انکشاف کیا ہے کہ عید کے فوری بعد 9 سے 10 ارب کی ریکوری ہونے والی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شوگر ملز کے نام پر کروڑوں روپے کی سالانہ سبسڈی لی جاتی تھی۔شریف خاندان کی قائم کردہ کمپنیوں میں ٹی ٹی یا ناصر لوتھا جیسے کردار نکلتے تھے۔ناصر لوتھا غیر ملکی شہری ہے جس کے ساتھ فراڈ کیا گیا اس نے پاکستان آکر بیان بھی ریکارڈ کروایا۔ایک اور بیان میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ کہ منی لانڈرنگ کرنیوالوں نے بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہیں،شریف خاندان کے حوالے سے کئی دستاویزات سامنے آگئی ہیں، مزید ٹی ٹیزکا معاملہ لے آیا ہوں، امید ہے شریف خاندان اس مرتبہ مجھے عدالت میں لے جائیگا۔انہوں نے کہا کہ مریم صفدر کی ٹرانزیکشنز کی دستاویزات سامنے آگئی ہیں جن پرانکے اپنے دستخط موجود ہیں،ایک حالیہ ٹی ٹی بھی ہے جو شریف ایجوکیشن سٹی برانچ کی ہے۔شہزاد اکبر نے کہاکہ 2016 تک جاتی عمرہ شریف ایجوکیشن سٹی بنک برانچز میں ہل میٹل سے رقوم منتقل ہوتی رہیں، یہ سلسلہ جاری تھا کہ پانامہ آیا اور دکان بند ہو گئی۔شہزاد اکبر نے کہاکہ جعلی اکائونٹس کیس میں ملزمان کی جانب سے پلی بارگین کا سلسلہ جاری ہے، ہریش نامی ملزم نے بھی پلی بارگین کر کے اعتراف جرم کیا اور دیگر ملزمان کی نشاندہی کی۔شہزاد اکبر نے کہاکہ ماضی میں عوام کو بے دردی سے لوٹا گیا۔

تازہ ترین خبریں