05:03 pm
مسئلہ کشمیر کیسے حل کرنا ہے،

مسئلہ کشمیر کیسے حل کرنا ہے،

05:03 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی و اینکر عمران خان کا گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی صحافیوں سے ہونے والی گفتگو سے متعلق کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بہت ساری ایسی باتیں کیں جس متعلق ہمارے ذہنوں میں سوالات موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان نے دوبارہ کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ لڑائی کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل یہ ہے کہ مغربی رائے عامہ کو مولڈ کیا جائے
۔مغربی دنیا اس طرح کے مسائل پر جو موقف رکھتی ہے ان ٹرمنالوجیز کو بھی استعمال کیا جائے۔دنیا کو بھارت کی طرف سے نسل پرستانہ اقدامات اور مسلمانوں کے خلاف انتہاپسند ی کے خلاف بتایا جائے۔دنیا کو یہ بھی بتایا جائے کہ مودی کی حکومت میں انتہا پسند پیدا ہو رہے ہیں جو مسلمانوں کی نسل کشی کرنا چاہتے ہیں۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔بھارت مسئلہ کشمیر کو اس حد تک لے کر جانا چاہتا ہے کہ جہاں پر نسل کشی بھی ہو گی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی ہو سکتی ہے۔اینکر عمران خان نے مزید کہا کہ اتوار کو ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران عمران خان نے آرمی چیف سے کہہ دیا تھا کہ ہمیں بہت ہوشیار رہنا ہو گا کیونکہ بھارت آزاد کشمیر کے اندر کوئی گڑبڑ کر سکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کو یہ بتایا کہ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش میں کوئی سازش نظر نہیں آتی،ہم اس معاملے پر امریکا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل پوری مغربی دنیا میں مسئلہ کشمیر پر ایک تاثر قائم کرنا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایسا کوئی کام نہیں کرے گا جس پر دنیا ان کے اوپر کوئی نشان لگائے۔