05:08 pm
سفارتی تعلقات بحال رکھنا چاہتے ہو تومقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنا متنازع فیصلہ واپس لو

سفارتی تعلقات بحال رکھنا چاہتے ہو تومقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنا متنازع فیصلہ واپس لو

05:08 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی سے مشروط کر دیا۔ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے تو پاکستان بھی بھارت سے متعلق کیے گئے سخت فیصلوں پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر بھارت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے
تو پاکستان بھی نظر ثانی کرے گا ، کیونکہ شملہ معاہدے کے مطابق ںظر ثانی دو طرفہ ہو گی۔ خیال رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان، انٹیلی جنس حکام اور سول قیادت شریک ہوئی۔اجلاس میں سول و عسکری قیادت نے کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا اور پاکستان کے بھرپور رد عمل اور ممکنہ آپشنز پر مشاورت مکمل کر لی گئی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اس اجلاس میں ملکی داخلی سلامتی اور سیکورٹی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے تھے۔ اجلاس سے متعلق جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نے اجلاس میں بھارتی عزائم بے نقاب کرنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے اور مسلح افواج کو مکمل تیار رہنے کی ہدایت کی۔مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں لے جایا جائے گا، 14 اگست کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے طور پر منایا جائے گا، جب کہ 15 اگست کو یوم سیاہ منایا جائے گا۔جبکہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں پر بھی نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ تاہم گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ہٹ دھرمی دکھانے پر پاکستان نے بھارت کے خلاف سخت مؤقف اپنایا تو بھارت نے پاکستان کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے ۔بھارت کا کہنا تھا کہ پاکستان فیصلے پر نظر ثانی کرے تاکہ نارمل سفارتی تعلقات بحال رہیں۔ بھارت نے مؤقف اپنایا کہ پاکستان سفارتی تعلقات محدود کرنے سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ پاکستان دو طرفہ تعلقات کو دنیا کے سامنے الارمنگ بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے۔

تازہ ترین خبریں