05:24 pm
دنیا میں کسی کو طاقت سے دبانا ممکن نہیں، چوکنا رہناہوگا، وزیر داخلہ

دنیا میں کسی کو طاقت سے دبانا ممکن نہیں، چوکنا رہناہوگا، وزیر داخلہ

05:24 pm

اسلام آباد (آئی این پی)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ دنیا میں اب طاقت سے کسی کو دبایا نہیں جا سکتا،ہمیں چوکنا ہو کر رہنا ہونا گا،اسلام آباد میں لگائے جانے والے بینرز بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں تھے جو مسلم لیگ (ن) گوجرانوالہ کے صدر نے لگائے تھے، چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بھارت کے خلاف حکومت پاکستان کے اقدامات کی تائید کرتے ہیں
،اب ہمیں بھارتی وزیر اعظم مودی کو ٹارگٹ کرنا ہو گا،داخلہ کمیٹی کے تمام ارکان پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ایل او سی کا دورہ کریںگے،کمیٹی نے 50 ہزار کی بجائے3 لاکھ کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط عائد کرنے کی سفارش کی تاہم خواتین کو خریداری کے وقت شناختی کارڈ سے مستثنیٰ قرار دینے کی ہدایت کی ہے،کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ایف سی اہلکاروں کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے فنڈز مہیا کرے۔جمعرات کوسینٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاسسینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہا ہے،بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ بر بریت کا مظاہرہ کیا،بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف جا رہا ہے،بھارت کے خلاف حکومت پاکستان کے اقدامات کی تائید کرتے ہیں،اب ہمیں بھارتی وزیر اعظم مودی کو ٹارگٹ کرنا ہو گا،نریندر مودی کو امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا تھا،فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کے ساتھ نا انصافی کی ہے،بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی وار کریمنل ہے،عالمی عدالت انصاف نے کشمیر میں بھارتی اقدامات کی مذمت کی ہے،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا گیا ہے،دنیا اور پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کا ساتھ دے،پاک فوج کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،داخلہ کمیٹی کے تمام ارکان پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ایل او سی کا دورہ کریںگے۔وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہاکہ اب طاقت سے کسی کو دبایا نہیں جا سکتا،کشمیریوں کی جدو جہد ایک اندورونی تحریک بن چکی ہے،انڈیا نے کشمیر میں جو کیا ہے اب ہمیں چوکنا ہو کر رہنا ہونا گا،اس ملک کو ہم نے’’Banana‘‘ریاست بنا دیا ہے،جو بھی کام ہو وہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے،موٹر سائیکل پر چھ سواریوں کی اجازت دے دی،ہم نے مصلحت کے تحت ہر کام کو مذاق بنا دیا ہے،اسلام آباد میں جو بینر لگائے گئے اس پر انتظامیہ حرکت میں آ ئی،جو بینرز لگائے گئے وہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ انڈیا کے خلاف تھے،بینرز پر لکھا تھا کہ اکھنڈ بھارت دہشت گرد ہے اور بھارتی وزیر اعظم اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کریںگے،بینرز مسلم لیگ نواز گوجرانوالہ کے صدر نے لگوائے تھے،بینرز لگوانے والے اور لگانے والے پکڑے گئے،ریاست مخالف سر گرمیاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔کمیٹی میں ایف سی اہلکاروں کو 3ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ زیر بحث آیا توکمیٹی نے ایف سی اہلکاروں کو تنخواہیں ادا نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا۔ کمانڈنٹ ایف سی معظم جاہ انصاری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 1597اہلکاروں کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی،فنڈز کی کمی کے باعث تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر سکے،تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے 1000ملین روپے درکار ہیں۔کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی وہ فوری طور پر ایف سی اہلکاروں کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے فنڈز مہیا کرے۔اسلام آباد میں مردوہ مرغیوں کے گوشت کی فروخت کا معاملہ زیر بحث آیا تو چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ اسلام آباد میں سلاٹر ہاوس اور فوڈ اتھارٹی نہیں ہے،فوڈ اتھارٹی کے قیام کا ڈھانچہ تیار ہو چکا ہے،قومی اسمبلی میں فوڈ اتھارٹی کے قیام کا بل پیش کر دیا گیا،سلاٹر ہائوس کے لئے فنڈز کا بندو بست کر دیا گیا ہے،سلاٹر ہائوس ایم سی آئی چلائے ہم بنا دیںگے۔کمیٹی نے سلاٹر ہائوس کے فوری قیام کی سفارش کر دی۔50ہزار سے زائد کی خریداری پر خواتین سے شنا ختی کارڈ کی کاپی لینے کا معاملہ زیر بحث آیا تو چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ ٹیکس کے نام پر خواتین کے شناختی کارڈ لینے کی شرط پر کسی صورت عمل نہیں کرنے دیںگے،معاشرے میں خواتین قابل احترام ہیں ان اقدارکو برقرار رکھا جائے،خواتین کے شناختی کارڈ کے غلط استعمال کا بھی اندیشہ ہے،اگر خواتین 50 ہزار سے زائد کی شاپنگ کریں تو وہ ان کے گھر کا پتہ نوٹ کیا جائے،50 ہزار کی بجائے3 لاکھ کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط رکھی جائے،ایف بی آر عوام کو تکلیف نہ دے،بنکوں کے اے ٹی ایم سے 9 ملین ڈالر چوری ہو چکے ہیں،بنک چوری کرنے والوں کی تفصیلات کیوں نہیں بتا رہے ہیں،ایف بی آر اپنی ناکامی کو عوام پر مسلط نہ کرے،ایف بی آر اپنی ناکامی کو بچیوں پر مسلط نہ کرے ،ایف بی آر حکام نے بتایا کہ خواتین اپنی جگہ اپنے والد۔خاوند یا بھائی کا شناختی کارڈ دے سکتی ہیں،خواتین کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط کے حوالے سے نو ٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھارتی حکومت کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی۔بھارتی حکومت کے خلاف مذمتی قرارداد چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے پیش کی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر بھارتی حکومت کی مذمت کرتی ہے،مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے،اسطرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے بھارت مقصد مقبوضہ کشمیر کی جغرافیہ تبدیل کرنا چاہتا ہے،بھارت اس مزموم حرکت سے مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر پر ہر ظلم و جبر روا رکھا ہے اور مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے،کمیٹی بھارت کیطرف سے لائن آف کنٹرول پر غیر اشتعال انگیز فائرنگ و کلسٹر بمباری کی بھرپور مزمت کرتی ہے، مقبوضہ کشمیر پر عالمی قوانین کی موجودگی میں کوئی ملک یکطرفہ طور پر متنازع حیثیت کو ختم نہیں کرسکتا،کمیٹی حکومت پاکستان پر زور دیتی ہے کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں بھارت اور مودی کیخلاف جائے، حکومت پاکستان دنیا بھر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے اشکار کر دے، قائمہ کمیٹی برائے داخلہ پاک فوج کی قربانیوں اور اہلیت پر فخر محسوس کرتی ہے۔

تازہ ترین خبریں