10:14 am
کتابوں کی خریداری پر سکول انتظامیہ دوکانداروں کو کتنا کمیشن دیتی ہے

کتابوں کی خریداری پر سکول انتظامیہ دوکانداروں کو کتنا کمیشن دیتی ہے

10:14 am

کراچی (نیوز ڈیسک)مہنگائی کے اس دور میں بھی والدین کے لیے بچوں کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اسی لیے بچوں کو اچھے اسکولوں میں بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ بہتر تعلیم حاصل کر کے زندگی میں کچھ بن سکیں لیکن افسوس یہ کہ کچھ اسکولوں نے بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ والدین کی جیبیں بھی کاٹنا شروع کر دی ہیں۔ایسی ہی ایک ویڈیو حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی
جس میں ایک شہری نے بیکن ہاؤس نامی اسکول کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں شہری کا کہنا تھا کہ میرا نام عمران درانی ہے اور میرے بچے بیکن ہاؤس اسکول کراچی میں پڑھتے ہیں۔ عمران درانی کا کہنا تھا کہ میں اسٹیشنری دکانوں کے سامنے کھڑا ہوں، بیکن ہاؤس نے اس مرتبہ پیسے کمانے کا ایک اچھا طریقہ ڈھونڈا ہے کہ کاپیوں اور اسٹیشنری کا ایک پیک بنا کر دکانوں پر رکھوا دیا ہے جس میں چار آنے کی ایک چیز کو چار سو روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔اسکول انتظامیہ نے والدین کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اسکول کا ہی پیک خریدیں جس کی قیمت 11 ہزار 400 روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیکن ہاؤس کی ان چیزوں کی انفرادی طور پر کوئی قیمت درج نہیں ہے۔ جب میں نے تھوڑا پتہ لگایا تو علم ہوا کہ اسٹیشنری بیکن ہاؤس نے خود چین سے امپورٹ کی ہے۔ اور اس کا پیک بنا کر دکانوں کو دے دیا گیا ہے اور دکانداروں میں سے جو اس پیک کو بیچے گا اُس کو 8 فیصد منافع بھی دیا جا رہا ہے۔یہی اسٹیشنری میں نے ایک عام دکان سے لی تو وہ مجھے 1200 روپے کی ملی جبکہ بیکن ہاؤس والے اسے 4 ہزار میں فروخت کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دوئم جماعت کا بُک پیک 11 ہزار 400 روپے جبکہ اس طریقے سے تیسری جماعت کا بُک پیک 13 ہزار 700 روپے کا ہے۔ اگر کسی عام دکان سے یہ سب خریدا جائے تو شاید یہ سب کچھ پانچ ہزار سے زیادہ کا نہ ہو۔ لیکن انہوں نے چور بازاری کی ہوئی ہے۔ انہوں نے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرواتے ہوئے ایکشن کا مطالبہ بھی کیا اور عوام سے اپیل کی کہ اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئرکیا جائے۔

تازہ ترین خبریں