10:22 am
نوازشریف کو جیل سے رہا کروائیں انکے پاس مسئلہ کشمیر کا حل ہے

نوازشریف کو جیل سے رہا کروائیں انکے پاس مسئلہ کشمیر کا حل ہے

10:22 am

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی روف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اس پوزیشن میں آگئی ہے کہ وہ حکومت کو ڈکٹیٹ کر رہی ہے اور انہیں مزید دباؤ میں لا رہی ہے تاکہ ان سے ڈیل لیں۔اگر مسئلہ کشمیر اسی طرح سے جاری رہتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کی دو سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کو ہے۔رؤف کلاسرا نے مزید کہا کہ جو بھی رہنما کھڑا ہوتا تھا وہ پہلے اپنے پارٹی لیڈر جو کہ حراست میں ہے، دس منٹ اس کی تعریفیں کرتا رہتا تھا۔اسی طرح جب مشاہداللہ خان پارلیمنٹ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے
تو انہوں نے مسئلہ کشمیر کا حل دیا۔مشاہد اللہ خان نے کہا کہ آپ کوٹ لکھپت جیل جائیں وہاں پر نواز شریف موجود ہیں جو مسئلہ کشمیر حل کروا سکتے ہیں۔رؤف کلاسرا نے کہا کہ یہ وہ نواز شریف ہیں جن کے دور میں کوئی وزیر خارجہ نہیں رہا۔مشاہداللہ کے کہنے کا مطلب تھا کہ نواز شریف کو رہا کروائیں اور وہ مسئلہ کشمیر کا حل دینگے۔اس کے علاوہ مشاہداللہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کہ آصف علی زرداری کے پاس مسئلہ کشمیر کا حل موجود ہو سکتا ہے۔جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں کس طرح سے ایک دوسرے کا ساتھ دے رہی ہیں۔واضح رہے مقبوضہ کشمیر پر بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ن لیگی رہنما مشاہد اللہ اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کے مابین سخت جملوں کا بھی تبادلہ خیال ہوا تھا۔مشاہد اللہ نے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔ مشاہد اللہ پارلیمنٹ میں نا مناسب الفاظ کا استعمال کرتے رہے۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے لیے سلیکٹڈ کا لفظ بھی استعمال کیا۔مشاہد اللہ کے نامناسب الفاظ کو حذف کر دیا گیا،مشاہد اللہ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور وزیراعظم عمران پر تنقید کرتے رہے،مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کے لیے آںے والے مشاہد اللہ خطاب کے دوران ٹریک سے ہٹ گئے۔ پارلیمنٹ میں آج بھی ایک غیر سنجیدہ رویہ دیکھنے کو ملا۔

تازہ ترین خبریں