12:09 am
ایک طرف بھارت کا کشمیریوں پر ظلم تو دوسری طرف حکومت نے کن بھارتی شخصیات کو پاکستان بلالیا

ایک طرف بھارت کا کشمیریوں پر ظلم تو دوسری طرف حکومت نے کن بھارتی شخصیات کو پاکستان بلالیا

12:09 am

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایک طرف جہاں مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں اور پاکستان میں کشمیریوں کے حق میں احتجاج اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں وہیں دوسری جانب پاکستان کی حکومت نے بھارت کے فنکاروں کو ویزے جاری کر دئے جس پر موجودہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پیدا ہونے والے سخت کشیدہ حالات میں بھی بھارت کے 14 فنکاروں کو خصوصی مہمانوں کی طرح سلوک کرتے ہوئے ویزوں کا اجرا کیا۔ فنکار امرک سنگھ اور اس کے دیگر ساتھیوں کو آٹھ اگست سے ایک ماہ کا وزٹ ویزہ جاری کیا گیا جس میں وہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد جا سکیں گے۔
اس معاملے پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں معروف صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ بھارتی فنکار میکا سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو خصوصی طور پر پاکستان کے ویزے فراہم کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کہ بھارتی فنکاروں کا یہ وفد واہگہ بارڈر کے راستے لاہور میں داخل ہوا جہاں انہوں نے اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقات کی۔ جس کے بعد جب 8 اگست کو کراچی میں پرفارم کیا۔حامد میر نے بتایا کہ اس وفد کو خصوصی پروٹوکول عدنان اسد کے اثر و رسوخ کی وجہ سے دیا گیا۔واضح رہے کہ عدنان اسد کا تعلق سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خاندان سے ہے۔ ایک اور پیغام میں حامد میر نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کر رہی تھی اور بھارت کشمیریوں پر گولیاں برسا رہا تھا، اُس وقت کچھ پاکستانی کراچی میں ایک بھارتی فنکار کی پرفارمنس سے محظوظ ہو رہے تھے۔مجھے یقین ہے کہ ان حالات میں کوئی پاکستانی بھارت میں بالکل بھی پرفارم نہیں کر سکتا۔پاکستانی حکومت کے اس اقدام پر سوشل میڈیا پر بھی کافی واویلا ہوا جہاں پاکستانی عوام نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بھارت کبھی بھی ہمارے فنکاروں کو ایسے ویزے فراہم نہیں کرسکتا پھر ہم یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا حب الوطنی اور مذہب صرف غریب کے لیے ہی ہے ؟ کیا امیر طبقے کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے باوجود حکومت کا یہ اقدام سمجھ سے بالاتر ہے۔ جس پر حامد میر نے کہا کہ جی ہاں! مجھے بھی کراچی سے کئی لوگوں نے فون کر کے یہی سوال کیا ہے کہ کیا مذہب اور حب الوطنی صرف غریب کے لیے ہی ہے؟خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم پاکستان کی جانب سے بھارتی فنکاروں کو ویزوں کے اجرا نے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جس پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔