01:27 pm
قوم مطمئن رہے ،پاک فوج  سرحدوں کی حفاظت کیلئے   تیار ہے ،آصف غفور

قوم مطمئن رہے ،پاک فوج سرحدوں کی حفاظت کیلئے تیار ہے ،آصف غفور

01:27 pm

اسلام آباد( آن لائن )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو چونکا دیا ہے جبکہ خبردار کیا کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف جارحیت کر سکتا ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو آگاہ کر رہے ہیں اور قوم مکمل طور پر جارحیت سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں جبکہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ قوم مطمئن رہے پاک فوج سرحدوں کی حفاظت کیلئے مکمل تیار ہے ،
بھارت پلوامہ جیسی ایک نام نہاد کارروائی بھارت کر سکتا ہے۔ ہفتہ کے روز وزیر اعظم کی ہدایت پر بنائی گئی خصوصی کمیٹی کا اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود کی زیر صدارت ہوا،اجلاس میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے برائے امور خارجہ کے چیئرمین مشاہد حسین سید، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سید فخر امام، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین، ممبران خصوصی کمیٹی، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر سول و عسکری قیادت شریک ہوئی،اجلاس میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی اشتعال انگیزی سمیت مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدام اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بھی غوروغوض کیا گیا،اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے سیکورٹی کونسل کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس اور اس کے ثمرات کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میجر جنرل آصف غفور کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آج بھی یکجہتی کا پیغام دیا ہے اور اس میں تمام اراکین کا کردار سامنے آیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 5 دہائیوں بعد اس معاملے کو اٹھایا گیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر کیا گیا جو بہت ہی حوصلہ افزا نشست تھے۔ بھارت کی بھرپور کوشش کے بعد یہ پاکستان کی کامیابی ہے۔ اجلاس کے دوران ہماری قانونی اور سفارتی حکمت عملی مرتب کرنے پر بات چیت ہوئی ہے جس میں تمام اراکین نے مفید مشورے دیے ہیں۔صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر پاکستان کی دیگر عالمی طاقتوں سے روابط نہیں ہوتے تو اجلاس منعقد نہیں ہوتا، بھارت نے اجلاس منعقد نہ ہونے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں اور کیا کیا کہا ہے وہ اس وقت بتانے کا وقت نہیں ہے۔نٹرنیشنل کورٹ ا?ف جسٹس (ا?ئی سی جے) میں جانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کی بات ہوئی ہے وہاں جانے کے محرکات پر گفتگو ہوگی، ابھی یہ پہلا اجلاس ہے چیزوں کو میز پر لایا جارہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا میں کشمیر کے مسئلے کے اجاگر کرنے کے لیے اہم دارالحکومتوں کی نشاندہی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کے مختلف سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ ان میں کشمیر سے متعلق ایک ترجمان بھی رکھا جائے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ہمیں ہندوستان سے آوازیں آرہی ہیں کہ مودی نے نہرو کے بھارت کو دفن کردیا اور ایسا ہی بھارت دکھائی دے رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بھارت ڈوول ڈاکٹرائن پر عمل کر رہا ہے جس کے تین کردار ہیں جن میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت دوبارہ بحال کرنے کے لیے اب بھارت میں بھی آوازیں بلند ہورہی ہیں جس کے حوالے سے پٹیشن دائر کی جارہی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب دماغ میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو ایسا ہی اقدام اٹھایا جاتا ہے جو 5 اگست کو اٹھایا گیا اور جب کوئی سٹھیا جاتا ہے تو ایسا بیان دیا جاتا ہے جو بھارتی وزیر داخلہ نے دیا ہے۔بعد ازاں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ قوم مطمئن رہے پاک فوج تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار ہے،پاک فوج قوم کی مدد سے بھارت کو منہ توڑ جواب دے گی،میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت پلوامہ جیسی ایک نام نہاد کارروائی بھارت کر سکتا ہے جس کو جواز بناتے ہوئے وہ پاکستان پر مہم جوئی کرے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پلوامہ جیسے حملے پاکستان اور کشمیر کے ساتھ غداری ہوگی اور پاکستان ایسے حملوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ آج کل کسی زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے، اس پر دنیا کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی فوج اس وقت اپنی مغربی سرحد پر امن کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، تاہم مشرقی سرحد ہمیشہ پاک فوج کے لیے اولین توجہ رہی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پاکستانیوں نے بھارتی بیانیہ کا زبردست مقابلہ کیا۔

تازہ ترین خبریں