02:58 pm
پاکستانی خاتون کو بیرون ملک ذلت و رسوائی کا سامنا، پاکستانی سفارتخانوں نے بھی منہ پھیر لیا

پاکستانی خاتون کو بیرون ملک ذلت و رسوائی کا سامنا، پاکستانی سفارتخانوں نے بھی منہ پھیر لیا

02:58 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی خاتون کو ویزا ہوتے ہوئے بھی بیرون ممالک ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ گیا اور اس ذلت میں اُس وقت اضافہ ہوا جب بیرون ممالک موجود پاکستانی سفارتخانوں نے بھی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ اس حوالے سے متاثرہ خاتون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر اپنی تمام تر کہانی بیان کر دی۔ ٹریول بلاگر خاتون نے بتایا کہ میں نے سینٹرل امریکہ اور جنوبی امریکہ کے دورے کا منصوبہ بنایا جس کے لیے میں نے مختلف ممالک کے ویزے حاصل کرنے کے لیے کئی ہفتے لگا کر اپنے دستاویزات مکمل کیے
اور کچھ ہی عرصہ کے بعد میرے مختلف ممالک کے ویزے آ گئے، ویزا آنے پر میں نے بھی دوسروں کی طرح یہی سوچا کہ مشکل کام ہو گیا ہے اب میں صرف سیر و تفریح کروں گی لیکن میں غلط تھی۔ میں برازیل پہنچی جہاں مجھے کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، میں نے برازیل میں بہت اچھا وقت گزارا اور وہاں کچھ دن قیام کے بعد میں اپنی اگلی منزل میکسیکو روانہ ہو گئی۔ میرے پاس کئی میکسیکن ویزے تھے لہٰذا میں نے پانامہ سے ہوتے ہوئے میکسیکو سے برازیل تک کی فلائٹ بُک کر لی۔ میکسیکو پہنچتے ہی میں بھی دوسرے مسافروں کی طرح امیگریشن کاؤنٹر پر لگی قطار میں کھڑی ہو گئی لیکن امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچنے سے قبل ہی مجھے بظاہر میری جنوبی ایشیائی شکل و صورت کی وجہ سے قطار سے الگ ہونے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے مجھ سے میرے پاسپورٹ سے متعلق دریافت کیا، جس کے بعد امیگریشن حکام نے آپس میں بات شروع کر دی۔ اسی دوران وہاں موجود تمام مسافر مجھے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے اور مجھے دیکھ کر انہوں نے آپس میں باتیں کرنا شروع کر دیں۔ مجھے پوچھ گچھ کے لیے ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ چونکہ زیادہ پاکستانی میکسیکو کی سیر کو نہیں آتے لہٰذا پاسپورٹ اور میری دیگر دستاویزات کا جائزہ لینا اُن کا حق تھا۔ لیکن جو سلوک میرے ساتھ روا رکھا گیا وہ نہایت بُرا تھا۔ انہوں نے مجھ سے میری تمام تر معلومات انتہائی تضحیک آمیز انداز میں دریافت کی اور مجھے بتایا کہ میکسیکو سٹی سے تصدیق ہونے تک مجھے انتظار کرنا پڑے گا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ پاکستانی پاسپورٹس پر ریڈ الرٹ ہے۔ اُن کو زیادہ انگریزی نہیں آتی تھی لہٰذا میں جب بھی ان سے کوئی سوال کرتی وہ آگے سے ہنستے اور میرا مذاق اُڑاتے تھے۔ کچھ دیر بعد مجھے بتایا گیا کہ میکسیکو کا ویزا ہونے کے باوجود مجھے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ اگر میرے پاس امریکہ کا ویزا ہوتا تو شاید وہ مجھے رکنے کی اجازت دے دیتے۔ میں نے اُن سے درخواست کی کہ مجھے کیوبا کی فلائٹ بُک کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ میرے پاس وہاں کا ویزا بھی موجود تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا ۔ انہوں نے مجھے ایک کمرے میں بند کیا اور کئی گھنٹوں تک میں بغیر کسی مدد ، معلومات اور یہاں تک کہ بغیر کچھ کھائے پئیے وہاں رہی۔ میرے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔ میں نے میکسیکو میں پاکستانی سفارتخانے سے مدد حاصل کرنے کی کوشش بھی لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ کچھ دیر کے بعد ایک پولیس اہلکار آیا اور مجھے پانامہ کی فلائٹ کے لیے جہاز تک لے گیا ، جہاز میں موجود مسافروں نے مجھے ایسے دیکھا جیسے کوئی مجرم ہو ، مجھ سے میری شہریت کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے جیسے میں کوئی دہشتگرد ہوں۔ پانامہ پہنچنے پر بھی ایک پولیس اہلکار نے ہی مجھے ریسیو کیا اور مجھے ایک لاک اپ نما کمرے میں بند کر دیا گیا۔ میں نے رو رو کر ان سے اپنا پاسپورٹ واپس دینے کی درخواست کی ، لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔ کچھ گھنٹوں کے بعد پولیس مجھے برازیل کی پرواز تک لے گئی، مجھے لگا کہ شاید برازیل پہنچ کر میری یہ اذیت ختم ہو جائے گی کیونکہ میں نے پہلے بھی برازیل میں قیام کیا ہے لیکن یہ بھی میری خوش فہمی تھی۔ میکسیکو حکام نے میری برازیل آمد سے قبل ہی اطلاع کر دی تھی میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیاجائے، مجھے کچھ کھانے کے لیے اور بنیادی سہولیات دی جائیں لیکن کسی کو مجھ پر رحم نہیں آیا۔ میں نے برازیل میں بھی پاکستانی سفارتخانے تک رسائی حاصل کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ، اُن کو فون کیے ای میل بھیجیں لیکن اُن کا کوئی جواب نہیں آیا۔ کئی گھنٹوں کے بعد مجھےواپسی کی ٹکٹ لینے کی ہدایت کی گئی۔ جس پر میں نے براستہ اسلام آباد متحدہ عرب امارات کی فلائٹ بُک کی۔ اور پھر وہی ہوا مجھے مجرموں کی طرح طیارے تک لایا گیا۔ خوش قسمتی سے متحدہ عرب امارات پہنچنے پر مجھے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ خاتون نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ مجھے بتایا جائے کہ میرا قصور کیا ہے ؟ انہوں نے اپنے برازیل اور میکسیکو کے ویزے کی تصاویر بھی شئیر کیں۔ خاتون نے پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو ہدایت کی کہ جب بھی آپ ایسے ممالک کی سیر کا منصوبہ بنائیں جہاں زیادہ پاکستانی نہیں جاتے تو اپنے آپ کو ہر قسم کی پریشانی کے لیے ذہنی طور پر تیار رکھیں کیونکہ پاکستانی سفارتخانے بھی اس ضمن میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرتے۔ میں آج بھی اپنا ای میل بار ہا چیک کرتی ہوں کہ شاید پاکستانی سفارتخانے کا کوئی جواب آیا ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ پاکستانی سفارتخانے نے تو پوچھا تک نہیں کہ میں کہاں ہوں اور میرے ساتھ کیا ہوا۔ خاتون کی اس کہانی پر سوشل میڈیا صارفین کا بھی سخت رد عمل آیا ، صارفین کا کہنا تھا کہ ایسے سفارتخانوں کے خلاف حکومت کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہئیے کیونکہ اگر وہ پاکستانی شہریوں کی مدد ہی نہیں کر سکتے اور بر وقت ان کو جواب نہیں دے سکتے تو ان سفارتخانوں پر اتنے پیسے خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں