04:36 pm
مری کے دُکانداروں کی ایک بار پھر سیاحوں کے ساتھ غنڈہ گردی

مری کے دُکانداروں کی ایک بار پھر سیاحوں کے ساتھ غنڈہ گردی

04:36 pm

مری (مانیٹرنگ ڈیسک)مری میں اکثر سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی اور بدکلامی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جس کے باعث کئی بار عوام کی جانب سے مری کے بائیکاٹ کی مہم بھی سوش میڈیا پر چلائی گئی۔ تاہم اس نوعیت کے واقعات کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مری میں ایک بار پھر سیر و تفریح کی غرض سے آئے سیاحوں کو مری کے مال روڈ کے دُکانداروں نے مِل کر مار پیٹ کا نشانہ بنا ڈالا۔
تفصیلات کے مطابق چند سیاح مال روڈ کی ایک کافی شاپ پر آئے تاہم کسی معاملے میں معمولی سی تلخ کلامی ہونے کے بعد کافی شاپ کے ملازمین نے گاہکوں کی مار پیٹ شروع کر دی اُن کی دیکھا دیکھی آس پاس کے دُکاندار بھی وہاں جمع ہو گئے۔ جنہوں نے مار پیٹ کا نشانہ بننے والوں کی پٹائی میں اپنا اپنا حصّہ بھی خوب ڈالا۔اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔واضح رہے کہ مری میں آنے والے سیاحوں کو ہراساں کرنے کے مختلف واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں مری کے ایک مقام پر آنے والے سیاحوں پر تشدد کیا گیا اور انہیں ہراساں کیا گیا۔جس کے بعد سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ مری’ مہم شروع کر دی گئی۔اس حوالے سے ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں۔ریلیوں میں شامل لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ مری میں ہم اور ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں۔مری میں فیملیوں پر تشدد بند کرو۔اس کے علاوہ ’ٹورسٹ کو عزت دو‘ کے پلے کارڈز بھی شامل تھے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس مہم میں مختلف لوگوں نے سیاحوں کو مشورہ دیا گیا تھاکہ وہ مری کا رخ نہ کریں کیونکہ وہاں کے مقامی لوگ سیاحوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ مری میں بائیکاٹ مری مہم نے خوب رنگ دکھایا تھا۔چھُٹی کے روز بھی مری کی مصروف ترین مال روڈ خالی خالی دکھائی دینے لگی تھی۔اس موقع پر ایک صارف نے سوشل میڈیا پر مری مال روڈ کی ایک تصویر بنا کر پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تصویر اتوار کے روز مری کے مال روڈ کی ہے جو ہمارے دوست محمد حفیظ اظہر نے بنائی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ 40 سال میں اتوار کے روز کبھی اتنی ویران مری کی مال روڈ نہیں دیکھی۔ مقامی تاجر برادری اس حوالے سے خاصی پریشان ہے ،انکا کہنا ہے کہ اس مہم کا مری کو خاصا نقصان ہو رہا ہے۔سیاحت کے باعث ہونے والی آمدنی میں 70فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے جبکہ اب سیاحوں کا رخ بھی مری کے علاوہ دوسرے مقامات کی جانب ہو چکا ہے۔