12:36 pm
 کشمیر کو آزادی ملنے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے

کشمیر کو آزادی ملنے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے

12:36 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کہا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر جنگ ہوئی تو نہ ہندوستان رہے گا نہ پاکستان رہے گا ،عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کئی مرتبہ رابطہ کیا مگر بھارت بات کرنے سے گریز کر رہا ہے، ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کشمیر کو آزادی نہ مل جائے اور انہیں اپنی قسمت کے فیصلے کا حق نہ مل جائے،
وزیر اعظم عمران خان پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنائیں گے،احساس پروگرام کے تحت 114 اسکیمیں شروع کی ہیں جس کے تحت یتیم اور بیوہ بغیر کچھ دکھائے 5 سے 10 لاکھ روپے کا قرض حاصل کرسکیں گے۔اتوار کو پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار میں ایک سال مکمل ہونے پر وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نعیم الحق نے کہا کہ ہماری حکومت نے جو بجٹ پیش کیا، پاکستان کی تاریخ میں اس سے بہتر فلاحی بجٹ سامنے نہیں آیا۔انہوںنے کہاکہ ہمارا عزم ہے کہ 5 سال میں ایک کروڑ صحت کارد جاری کردیں اور کم آمدنی والے لوگوں کو گھر فراہم کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت 114 اسکیمیں شروع کی ہیں جس کے تحت یتیم اور بیوہ بغیر کچھ دکھائے 5 سے 10 لاکھ روپے کا قرض حاصل کرسکیں گے۔انہوںنے کہاکہ عمران خان پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کا عزم پورا کریں گے اور اس کے لیے جو ہم اسکیمیں لارہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں اس سے بہتر فلاحی پروگرامز سامنے نہیں آئے۔مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ کشمیر کے معاملے پر جنگ ہوئی تو نہ ہندوستان رہے گا نہ پاکستان رہے گا عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کئی مرتبہ رابطہ کیا مگر بھارت بات کرنے سے گریز کر رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بات میں انہیں بتایا کہ ہم ایک سال بات چیت کی کوششیں کر رہے ہیں مگر مثبت جواب نہیں آتا تو انہوں نے حیرت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا فلسفہ ہے کہ ہندوستان میں صرف ہندوؤں کی حکومت ہو اور اس فلسفے پر نریندر مودی عمل پیرا ہے تاہم ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کشمیر کو آزادی نہ مل جائے اور انہیں اپنی قسمت کے فیصلے کا حق نہ مل جائے۔معاون خصوصی نے کہاکہ حکومت میں آئے تو معلوم ہوا کہ ہر ادارے کا دیوالہ نکل چکا ہے اور نقصان اربوں تک پہنچ چکا ہے، حکومت کا خزانہ خالی تھا اور ان نقصان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی تھی تاہم ہم نے معیشت کو درست سمت میں لانے کے لیے اقدامات کیے۔انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ میڈیا سوال اٹھائے مگر ہمارا موقف بھی اس میں بیان کرے تاکہ قوم کے سامنے پوری تصویر سامنے آسکے۔نعیم الحق نے کہا کہ حکومت سنبھالنے پر پتا چلا کہ ہر ادارے کا خزانہ خالی ہے اور دیوالیہ نکل چکا، ہم ملکی واجبات کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تھے، پہلا سال مشکل گزرا اور ہمیں سخت اقدامات کرنا پڑے۔ انہوں نے آخر میں امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم کی محنت کے ثمرات بہت جلد قوم کے سامنے آئیں گے۔

تازہ ترین خبریں