03:45 pm
کشمیر کامسئلہ اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے

کشمیر کامسئلہ اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے

03:45 pm

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزریر اعظم پاکستان عمران خان قوم خطاب کر رہے ہیں جس کا آغاز انہوں نے اس بات سے کیا کہ میں آج صرف کشمیر کے مسئلہ پر بات کرنے آیا ہوں عمران خان نے واضح کیا کہ کشمیر کامسئلہ اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اس لیے میں چاہتا ہو ںعوام کواس مسئلے کے تمام پہلووں سے آگاہ کروں ، اپنی گفتگو کا آغآز کرتے ہوئے عمران خا ن نے کہا کہ جب ہم حکومت میں آئے تو ہمارا مشن تھا کہ ہم تمام ہمساہ ممالک سے دوستی کے تعلقات بڑھائیں گے ، کیونکہ دونوں ممالک میں غربت ہے ماحولیاتی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں اور ہمیں چاہیے کہ مل کر ا س خطے کو آگے بڑھائیں لیکن بھارت بجائے اس کے کہ ہمارے ساتھ بات چیت کرتا انہوں نے ہم پر دہشتگردی کا الزام لگانا اور پراپیگنڈہ شروع کر دیا ،
پھر بھارت میں الیکشن آ گئے اور ہم خاموش ہو گئے کہ وہ اپنی حکومت بنانے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں پھر 26 فروری کا واقعہ ہوا ہم نے جواب بھی پھر بھی خیر سگالی دکھائی لیکن بھارت نے اس کو ہماری کمزوری سمجھا اور مودی ایک مرتبہ پھر الیکشن جیت کر اقتدار میں آگئے اور پھر 5 اگست کو 370 کا ایکٹ ختم کر کے کشمیر میں فوج بڑھا دی اور کرفیو اور یہ ساری پابندیاں کہ وہاں کوئی جا نہیں سکتا اور کشمیریوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ، اس سب کے پیچھے ایک ذہنیت ہے اور وہ ذہنیت ہے آر ایس ایس کی ذہنیت جس کے تحت وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان صرف ہندو وں کا ہے اور ان کے لیے ہٹلر ایک بہت بڑا لیڈر ہے اور وہ ان کے فالوورز ہیں یہی وہ ذہنیت تھی جس کی بنیاد پر انہوں نے آزادی کے بعد گاندھی کو قتل کیا ، یہی ذہنیت تھی جس کے تحت گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور بابری مسجد کو بھی اسی ذہنیت کی وجہ سے شہید کیا گیا اور یہی وہ آئیڈیالوجی ہے جس کے تحت مسجدوں اور عیدائیوں کے چرچز کو نشانا بنایا گیا لوگوں سڑکوں پر پیٹ پیٹ کر قتل عام کیا گیا دوسری طرف ہم مسلمان ہیں ہمارے اور آر ایس ایس کی ذہنیت میں یہی فرق ہے کہ ہم مسلمان ہیں نبی کریم ﷺ کی بلند پایا تعلیمات ہمارے پاس ہیں اور دوسری طرف یہ چھوٹی ذہنیت کے لوگ ہیں ۔ عمران خان نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں مودی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کر گیا ہے اب کشمیر آزاد ہو کر رہے گا ، عمران خان نے کہا کہ یہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے اس مسئلے کے بعد مودی چاہتا تھا کہ خود ہی کوئی اٹیک کر کے پاکستا ب کا اس کا ذمہ دار قرار دے کر کشمیر پر سے توجہ ہٹا دے اس سب کے بعد ہمیں دو کامیابیاں ملی ایک یہ کہ ہم اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گئے اور اس سے یہ ایک انٹرنیشنل مسئلہ بن گیا اور پورے عالمی میڈیا کو اس طرف توجہ دلائی جس سے مودی کی سازش ناکام و گئی دوسرا ہم نے مودی کی پلاننگ کو بے نقاب کر دیا وقت سے پہلے پوری دنیا کے ایمبیسز کو آگاہ کیا کہ اب یہ کشمیر میں کوئی دہشتگردی کریں گے جس سے ہم اس پراپیگنڈہ سے بچ گئے