04:35 pm
آج چند مسلمان ممالک ہمارے ساتھ نہیں ہیں مگر کل وہ ہمارے ساتھ ہونگے

آج چند مسلمان ممالک ہمارے ساتھ نہیں ہیں مگر کل وہ ہمارے ساتھ ہونگے

04:35 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج چند مسلم ممالک ساتھ نہیں، لیکن آگے سارے ساتھ کھڑے ہوں گے،سوا ارب مسلمان اقوام متحدہ کو دیکھ رہے، 80 لاکھ کشمیریوں کے ساتھ کیسے ظلم ہورہا ہے، اقوام متحدہ کو فوری اقدامات اٹھانے چاہیئں۔ وزیراعظم عمران خان نےکشمیر ایشو پرسرکاری ٹی وی اورریڈیو پر قوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کا ایشو عالمی مسئلہ بن گیا۔ انٹرنیشنل میڈیا میں بھی مسئلہ اٹھ گیا ہے۔ہم نے پوری دنیا کو مودی کے عزائم سے بھی پہلے ہی آگاہ کرٓدیا ہے
۔ ہماری فوج بھی تیار ہے، ہماری فوج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ مودی نے آخری نے پتہ کھیل دیا اب جو کرنا ہم نے کرنا ہے۔ مودی کیلئے اب آزاد کشمیر میں کوئی بھی آپریشن کرنا ناممکن ہوگا۔ ہم فیصلہ کرلیں۔ اس ایشو پر ہمیں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ میں پوری دنیا میں بتاؤں گا کہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے، یہ عام حکومت نے نہیں ہے۔ یہ خوفناک نظریے پر چل رہی ہے، میں نیویارک میں جنرل اسمبلی کی تقریر میں بھی کشمیر ایشو کو اٹھاؤں گا۔ وقت ثابت کرے گا کہ کشمیر آزاد ہوگا۔ دنیا نے تسلیم کیا کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلم ممالک سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بعض مسلم ممالک آج کسی مجبوری یا تجارت کی وجہ سے ساتھ نہیں تو آگے ساری مسلم دنیا ساتھ کھڑی ہوگی۔ شروع میں بوسنیا کے بھی کوئی ساتھ نہیں تھا لیکن بعد میں پوری دنیا میں آواز اٹھائی گئی۔ میں کشمیر مسئلے کو پوری دنیا میں اٹھانے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ کہ 80 لاکھ کشمیریوں کے ساتھ کیسے ظلم ہورہا ہے۔ جب بھی کشمیر میں کرفیواٹھے گا تووہاں کیا ہوگا۔ خطاب کا مقصد یہ ہے کہ کشمیر کے ساتھ دنیا کھڑی ہو یا نہ ہو، لیکن پاکستانی عوام کھڑی ہے۔ ہم ساری قوم ہر ہفتے کوکشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجتی کیلئے باہر نکال کرے گی۔ ہم ہر ہفتے ایک ایونٹ کا انعقاد کیا کریں گے۔ اس جمعے کو 12 بجے سے لیکر ساڑھے بارہ بجے تک باہر نکلیں اور کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ جب تک 27 ستمبر کو نیویارک کا اجلاس نہیں ہوجاتا۔ ہم باہر پر نکلیں گے۔ وقت ثابت کرے گا کہ ہندوستان کی حکومت نے تکبر میں آکر غلط کام کیا۔ بھارت نے کشمیر میں اضافی فوج بھجوائی اور کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا دیا۔ بھارت نے اپنے آئین کی خلاف ورزی کی اور سیکولرازم بھی ختم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیر کے لوگوں کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ حق نہیں دیا گیا۔ اب کشمیریوں پر جوظلم ہورہا ہے۔ اس میں سب سے زیازہ ذمہ داری اقوا م متحدہ کی ہے کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ میں اقوام متحدہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ سوا ارب مسلمان ان کو دیکھ رہے ہیں کہ انصاف کریں گے یا نہیں۔ مسلمانوں پرجو ظلم ہو رہے ہیں اس پراقوام متحدہ کواقدامات کرنے چاہیئں۔ اگر مسئلہ جنگ کی طرف چلا گیا تو یاد رکھیں دونوں ممالک کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں، نیوکلیئر جنگ کوئی بھی نہیں جیتے گا، یہاں توتباہی ہوگی لیکن پوری دنیا میں اس کے اثرات جائیں گے، دنیا ہمارے ساتھ آئے یا نہ آئے ہم کشمیریوں کے ساتھ آخری دم تک کھڑے رہیں گے۔