02:51 pm
سندھ حکومت لڑکھڑانے لگی، آغاسراج درانی کی سربراہی میں فارورڈ بلاک بننے لگا

سندھ حکومت لڑکھڑانے لگی، آغاسراج درانی کی سربراہی میں فارورڈ بلاک بننے لگا

02:51 pm

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلز پارٹی سندھ میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی سربراہی میں فارورڈ بلاک بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ مسلسل نیب تحویل میں رہنے کے دوران سپیکر سندھ اسمبلی نے اپنی ہی پارٹی کیخلاف کام شروع کیا، آغا سراج نے اپنی جماعذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کے ایک درجن سے زائد ایم پی ایز سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں سپیکر نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کو قائد ایوان کی تبدیلی پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی، سپیکر سندھ اسمبلی نے ایسے ارکان سے رابطہ کیا جو پارٹی اور سندھ حکومت سے نالاں تھے۔
ذرائع کے مطابق سراج درانی کے روابط کا راز فاش ہونے پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سخت نوٹس لے لیا۔ذرائع کے مطابق پارٹی کی ایم پی ایز سے ملاقاتوں کے بعد ارکان نے ساری بات پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے رکھ دی، پیپلزپارٹی چیئرمین راز فاش ہونے کے بعد شدید ناراض ہو گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا فیصلہ بلاول بھٹو کی جانب سے وطن واپسی پر ہو گا، فوری طور پر آغا سراج درانی کیخلاف کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ خیال رہے کہ سندھ میں چند عرصے سے پیپلز پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنے والے گم ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی سے لوگوں کو الگ کی جاسکتا ہے لیکن اس سے ہوگا کیا؟ پیپلز پارٹی پھر پوری طاقت سے واپس آئیگی اور فارورڈ بلاک بنانے والے گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں فاورڈ بلاک کی باتیں پرانی ہیں جو بھی پیپلزپارٹی سے الگ ہوئے ، اب وہ کہاںہیں ؟ ان کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی سے جو الگ ہوا ، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔واضح رہے کہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ہ سندھ میں 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہے، جس میں تھرپار کر اور نواب شاہ کے ایم پی ایز بھی شامل ہیں۔ اس میں مخدوم فیملی اور نادر مگسی کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار مراد علی شاہ کی گرفتاری کا انتظار کر رہا ہے.انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اگر مراد علی شاہ گرفتار ہو جائیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہی نہ رہے کیونکہ 27اراکین صوبائی اسمبلی پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہو چکا ہے اور جیسے ہی مراد علی شاہ گرفتار ہوتے ہیں یہ گروپ پیپلز پارٹی چھوڑ کر الگ ہو سکتا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت نہیں رہے گی ایسی صورت میں آصفہ بھٹو زرداری سندھ میں اپوزیشن لیڈر بنیں گی۔

تازہ ترین خبریں