04:25 pm
شیخوپورہ واقعے پر متاثرہ خاتون کانسٹیبل جذباتی ہورہی ہیں، ڈاکٹر شہباز گل

شیخوپورہ واقعے پر متاثرہ خاتون کانسٹیبل جذباتی ہورہی ہیں، ڈاکٹر شہباز گل

04:25 pm

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) شیخوپورہ میں ایک وکیل کی جانب سے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارے جانے کا واقعہ طول پکڑ گیا ہے اور معاملہ خاتون کانسٹیبل کے استعفے تک جا پہنچا ہے۔ ملزم نے لیڈی کانسٹیبل کو چانٹا مارا جس کے بعد عدالتی حکم پر لیڈی کانسٹیبل نے ملزم وکیل کو حراست میں تو لے لیا لیکن ملزم نے عدالت سے ضمانت کروا لی جس کے بعد خاتون پولیس اہلکار نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے
اور وہ نوکری سے استعفیٰ دینا چاہتی ہے جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ خاتون پولیس اہلکار جذباتی ہورہی ہے ۔ تھپڑ مارنے کے واقعے کے خلاف درج مقدمے میں ملزم کے خلاف گولی مارنے کی دفعا ت شامل نہیں کی جا سکتیں۔انہوں ںے کہا کہ ڈی پی او نے بالکل ٹھیک آفر کی ہے کہ کسی کے پاس سچ ثابت کرنے کی ویڈیو ہے تو سامنے لے آئے، معاملہ ان کا ڈپارٹمنٹ دیکھ رہا ہے، اگر ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے تو وہ بتائيں۔شہباز گل کے مطابق پنجاب حکومت خاتون کانسٹیبل کے ساتھ کھڑی ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ تھپڑ مارنے پر گولی مارنے کی دفعات لگائی جائے تو یہ بات غلط ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز شیخوپورہ کی تحصیل فیروز والا میں خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والے وکیل کو اُسی لیڈی کانسٹیبل نے ہتھکڑیاں لگاکر عدالت میں پیش کیا تھا۔فیروز والا کچہری میں خاتون پولیس اہلکار نے احمد مختار نامی وکیل کو لیڈیز چیکنگ پوائنٹ پر گاڑی پارک کرنے سے منع کیا تھا جس پر وکیل احمد مختار نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل سے بدتمیزی کی اور تھپڑ مارا تھا۔خاتون پولیس اہلکار نے انصاف نہ ملنے پر نوکری کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تازہ ترین خبریں