12:57 pm
مریم نواز کے ہاتھ ایک ایسا ترپ کا پتہ آ گیا ہے جس سے سارا کھیل بگڑ سکتا ہے، اہم انکشاف

مریم نواز کے ہاتھ ایک ایسا ترپ کا پتہ آ گیا ہے جس سے سارا کھیل بگڑ سکتا ہے، اہم انکشاف

12:57 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار عمار مسعود نے اپنے ایک کالم میں مریم نواز کا تذکرہ کیا اور ان کے حوصلے اور ہمت کی تین بڑی وجوہات بتا دیں۔ اپنے کالم میں عمار مسعود کا کہنا تھا کہ حیران ہوں کہ ہم خوف زدہ بھیڑوں بکریوں میں یہ سرکش خاتون کیسے پیدا ہوگی۔ ہم گھر بیٹھے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں اور وہ سر عام اس نظام کو چیلنج کر رہی ہوتی ہے۔ ہم لفظ لکھتے ہزار بار سوچتے ہیں مگر وہ بے باک ہو کر جلسہ گاہ میں سچ بول دیتی ہے۔ ہم مصلحت کا شکار ہوتے ہیں مگر وہ کسی سے نہیں ڈرتی۔ وہ بہادر بھی ہے سرکش بھی اور بے باک بھی۔
اس میں حوصلہ بھی ہے ہمت بھی اور اس کو ذہن رسا بھی میسر ہے۔کوٹ لکھ پت جیل میں قید تنہائی میں پابند سلاسل یہ خاتون منہ میں سونے کا چمچہ لے پیدا ہوئی۔ ان کا تعلق اس گھرانے سے ہے آج بھی جہاں مہمان نوازی کی روایت ہے، جہاں بزرگوں کے احترام کا سبق دیا جاتا ہے۔ سوچنا صرف اتنا ہے کہ یہ خاتون عام سے لباس میں کیوں جلسہ گاہ سے جلسہ گاہ پھر رہی ہیں۔ پندرہ پندرہ گھنٹوں کا سفر آخر کس لئے کر رہی ہیں۔ یہ اگر چاہیں تو آج ہی اپنے والد کے ساتھ لند ن جا کر بھائیوں کے ساتھ پر تعیش زندگی گزار سکتی ہیں۔ اپنے بچوں کو ایک بہتر ملک میں پرورش دے سکتی ہیں۔ اگر چاہیں تو جیل کی دیواریں آج ہی موم ہو جائیں۔ سب مسئلے ختم ہو جائیں۔ سب رستے کھل جائیں مگر پھر بھی یہ جیل میں قید تننہائی ہنسی خوشی کاٹ رہی ہیں۔یہ وہی خاتون ہیں جو تمام تر امارت کے باوجود ٹویٹر پر اپنے والد کے بلڈ پریشر اور کمزور دل کی دھڑکنوں کے بارے میں تنہا چیختی نظر آتی تھیں۔ یہ وہی خاتون ہیں جس کی بستر مرگ پر پڑی والدہ کے ہسپتال میں مخالف سیاسی جماعت کے غنڈے اس لئے گھس گئے کہ وہ تصدیق کر سکیں کہ مرحومہ کی کتنی سانسیں باقی ہیں۔ یہ وہی خاتون جن کے والد کے دل کا بائی پاس ہوا تو لوگوں نے اس پر ٹھٹھے لگائے۔ یہ وہی خاتون ہیں جس کے بھائی کے لندن کے گھر کے باہر مخالف جماعت کے غنڈوں نے دروازے توڑ دیے۔اس خاتون کے فیصلے نہ مصلحت پسند ہیں نہ ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہے۔ اس خاتون کے حوصلے کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو ان کے والد ہیں جو اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ جو اب نہ اپنی زندگی کی پرواہ کر تے ہیں نہ موت سے انہیں ڈر لگتا ہے۔ اب وہ سب کچھ گنوا چکے ہیں اور کچھ گنوانے کا انہیں خوف نہیں رہا۔ اس خاتون کے حوصلے کی دوسری وجہ وہ عوام کی اکثریت ہے جو ان کے ساتھ ہے جو بہت کچھ بدلنا چاہتی ہے مگر کچھ نہیں کر پاتی۔ اور تیسرا اس خاتون کے ہاتھ ایک ترپ کا پتہ آ گیا ہے جس سے سارا کھیل بگڑ سکتا ہے۔ ساری بساط الٹ سکتی ہے۔ وہ اس راز کے سہارے اس نظام کو، سارے انصاف اور اس ساری صحافت کو چیلنج کرنے کے درپے ہیں۔ عمار مسعود نے اپنے کالم میں ایک سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید یہ خاتون اگر کل کو بے گناہ نکلی تو کیا ہو گا؟ اس خاتون کی بے گناہی اس سماج، اس نظام اور اس انصاف کے منہ پر ایسا زناٹے دار طمانچہ ہو گا جس کی آواز ہماری مسخ شدہ تاریخ کے ہر صفحے پر گونجتی دکھائی دے گی۔

تازہ ترین خبریں