07:53 am
پاکستان میں مجھے اور میرے خاندان کی جان  کو خطرہ ہے ، تحریک انصاف کے سابق رکن نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دیدی

پاکستان میں مجھے اور میرے خاندان کی جان کو خطرہ ہے ، تحریک انصاف کے سابق رکن نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دیدی

07:53 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی خیبر پختونخوا اسمبلی کے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق اقلیتی رکن بلدیو کمار بھارت میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وادی سوات کے علاقے بری کوٹ سے تعلق رکھنے والے بلدیو کمار نے اتوار کے روز بھارتی میڈیا کو بتایا کہ پاکستان میں ان کی زندگی اور خاندان کو خطرہ ہے، اس لیے وہ وہاں واپس نہیں جانا چاہتے۔ انہوں نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و ستم کے الزامات بھی لگائے۔ بلدیو کمار اگست میں وزٹ ویزے پر بھارت گئے تھے
جبکہ ان کی اہلیہ اور دو بچے رواں برس جنوری سے ہی ان کی بیٹی کے علاج کی غرض سے وہاں مقیم ہیں۔ بلدیو کی اہلیہ بھاونا بھارتی شہری ہیں جبکہ ان کی 11 سالہ بیٹی تھیلسیمیا کی مریض اور بھارت میں زیر علاج ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بلدیو کمار اپنے خاندان کے ہمراہ صوبہ پنجاب کے شہر کھنہ (ضلع لدھیانہ) میں کرائے کے مکان میں مقیم ہیں۔بلدیو کمار پر وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا کے سابق مشیر ڈاکٹر سورن سنگھ کے قتل کا بھی الزام تھا، تاہم شواہد کی عدم دستیابی کے باعث عدالت نے انہیں رہا کر دیا تھا۔سورن سنگھ ہی کے قتل کے بعد بلدیو کمار کو خیبر پختونخوا اسمبلی کا رکن بننے کا موقع ملا تھا۔ بلدیو کمار کے دو بھائیوں اور ایک بہن کے علاوہ کئی رشتہ دار سوات کے علاقے بری کوٹ اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں رہتے ہیں۔بلدیو کے بھارتی میڈیا پر نمودار ہونے کے فوراً بعد اتوار کی دوپہر ان کے رشتہ دار مینگورہ میں واقع سوات پریس کلب پہنچے اور میڈیا سے گفتگو کی۔بلدیو کمار کے بھائی اور تحصیل کونسلر تلک کمار سنگھ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’میرے خیال میں انہوں نے کسی دباؤ کے تحت یہ بیانات دیے ہیں۔‘اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’بلدیو محب وطن پاکستانی تھے اور ہم اُن سے ایسی امید نہیں رکھتے تھے۔‘تلک کمار نے کہا کہ بھارت جاتے ہوئے بلدیو نے اپنے سینے پر پاکستانی چھنڈا سجایا ہوا تھا بلکہ ان کے کچھ دوستوں نے ایک ایسی تصویر کا ذکر بھی کیا جس میں بلدیو گولڈن ٹمپل میں کھڑے ہیں اور ان کے سینے پر پاکستانی پرچم لگا ہوا نظر آرہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’مجھے یقین ہے کہ بلدیو کو اس بات کا پوری طرح اندازہ ہے کہ ان کے ایسے بیانات یہاں موجود عزیز رشتہ داروں کے لیے مسائل کھڑے کر سکتے ہیں۔ اس لیے میرا نہیں خیال کہ وہ (بلدیو) اپنی مرضی یہ سب کچھ کر اور کہہ رہے ہیں۔تلک کمار نے کہا کہ انہیں بلدیو کے ارادوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ وہ اپنی بچی کے علاج کے لیے انڈیا گئے تھے۔بلدیو کے بھانجے ہومی کمار سنگھ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’میرے ماموں نے 12 اگست کو اپنے فیس بک پیج پر تصویر لگائی اور لکھا کہ وہ انڈیا میں ہیں۔ ہمیں فیس بک سے علم ہوا کہ وہ وہاں ہیں۔‘ہومی کمار جو سوات یو نیورسٹی کے طالب علم ہیں نے کہا کہ ان کا خاندان کئی نسلوں سے بری کوٹ (سوات) میں رہائش پذیر ہے اور پاکستان ان کا ملک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’سکھوں کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایک آدھ ذاتی واقعے کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ یہاں کوئی ظلم ہو رہا ہے۔‘بلدیو کمارکے بڑے بھائی بٹ خیلہ کے سرکاری اسپتال میں لیبارٹری ٹیکنیشن ہیں جبکہ تلک کمار بری کوٹ میں کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں۔ بلدیو کے خالہ زاد بھائی اور عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر امرجیت ملہوترا نے انکشاف کیا کہ: ’بلدیو کی اہلیہ پاکستان میں نہیں رہنا چاہتی تھیں، اسی وجہ سے بلدیو بھارت میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ بھارتی میڈیا نے بلدیو کمار کے کیس کو عین اُس دن توجہ دی جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جینیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرنا تھا۔اپنے خطاب میں پاکستانی وزیر خارجہ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری ظلم و ستم کا ذکر کیا اور دنیا سے اس کا نوٹس لینے کی درخواست کی۔بلدیو کمار نے اتوار (8 ستمبر) کی صبح بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں میڈیا سے گفتگو کی۔ تقریباً تمام بڑے بھارتی نجی ٹی وی چینلز نے ان کے ویڈیو بیپرز کیے اور ان سے پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم ستم سے متعلق کئی سوالات کیے۔ اسی طرح بھارتی اخبارات نے بھی بلدیو کی میڈیا سے گفتگو کو اپنی ویب سائٹس پر شائع کیا۔ٹی وی چینلز اور اخبارات کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بلدیو کمار سے متعلق ٹرینڈز گردش کر رہے ہیں۔فروری 2018 میں جب پروڈکشن آرڈر کے تحت بلدیو کو حلف برداری کی خاطر صوبائی اسمبلی لایا گیا تو تحریک انصاف کے اراکین نے ان کے حلف اٹھانے میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ یہاں تک کہ تحریک انصاف کے ایک رکن اسمبلی نے بلدیو کی طرف اپنا جوتا بھی اچھالا تھا۔

تازہ ترین خبریں