05:13 pm
 گھروں کی تزئین وآرائش کیلئےلاکھوں کے غیرقانونی فنڈز جاری کردیئے

گھروں کی تزئین وآرائش کیلئےلاکھوں کے غیرقانونی فنڈز جاری کردیئے

05:13 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزارت خارجہ کی جانب سے اپنے افسران کی رہائشی عمارتوں کی تزئین و آرائش پر غیر قانونی طور پر فنڈز خرچ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔اس حوالے سے قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارت خارجہ نے رہائشی عمارتوں کے تزئین و آرائش پر 91 لاکھ 82 ہزار 550 روپے خرچ کیے۔دستیاب دستاویزات کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے مالی سال 2017-18 میں تزئین و آرائش کی مد میں حکومتی ملکیتی رہائئشوں پر 58لاکھ 39ہزار 520 اور فارن آفس لاج میں رہائشوں ہر 33 لاکھ 43 ہزار روپے کے اخراجات کیے۔
دفتر خارجہ رہائشی عمارتوں کی تزئین و آرائش کرنے کا مجاز نہیں تھا۔دستاویزات کے مطابق سرکاری عمارتوں کی تزئین آرائش کا کام سی ڈی اے اور پاک پی ڈبلیو ڈی کرتی ہے اور وزارت خارجہ خود یہ کام کرانے کی مجاز نہیں ہے اور یہ اخراجات قواعد کی خلاف ورزی ہے۔آڈٹ کی جانب سے وزارت خارجہ کے اس اقدام کو کزور مینجمنٹ قرار دے دیا گیا ہے اور وزارت خزانہ سے اس کو ریگولرائز کرنے کی ہدایت کی ہے۔خیال رہے اس سے قبل ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ : وزیراعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنے حلقے کی تزئین و آرائش کے لیے 64 کروڑ روپے جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے تعلیم و صحت کے فنڈز اب تونسہ شریف کی خوبصورتی پر خرچ کیے جائیں گے۔ محکمہ خزانہ اور کابینہ ونگ کی دستاویزات بھی منظر عام پر آ گئی ہین جن کے مطابق تونسہ شریف کی خوبصورتی کی اسکیم نئی ہے، اس کے لئے تعلیم اور صحت کی اسکیموں کے کروڑوں کے فنڈز جاری نہیں ہوئے۔محکمہ پی اینڈ ڈی کے مطابق اسکیم کے لیے فی الوقت فنڈز تو نہیں ہیں لیکن تعلیم و صحت کی اسکیموں سے فنڈز نکالے جا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ دور حکومت میں بھی یہی ہوتا تھا۔ تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی گذشتہ دور حکومت کی طرز پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

تازہ ترین خبریں