07:01 am
 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ کشمیر کے حوالے سے مشترکہ بیان کی 58 ملکوں نے حمایت کر دی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ کشمیر کے حوالے سے مشترکہ بیان کی 58 ملکوں نے حمایت کر دی

07:01 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے بھارتی ریاست آسام میں شہری اندراج کے عمل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 31 اگست کو جاری ہونے والی شہری فہرست سے 19 لاکھ کے قریب افراد کو خارج کرنے سے لوگوں میں بے چینی ہے۔ بھارتی حکومت سے پرزور اپیل کی گئی کہ مطلوبہ عمل میں لوگوں کی شکایات کا ازالہ اور شہریت منسوخی کیخلاف اپیلوں کے دوران قانونی ضابطوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔یاد رہے
کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے مسلسل 36 روز سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث وادی میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔قابض انتظامیہ کی جانب سے مسلسل لاک ڈاؤن سے بچوں کے دودھ، ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہوگئی ہے جبکہ مقبوضہ وادی میں ٹیلیفون، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بالکل بند ہے۔اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ مشترکہ بیان کی 58 ملکوں نے حمایت کر دی، ان ممالک نے بھارت کے سامنے 5 مطالبات رکھ دیے ہیں۔پہلا مطالبہ ہے کہ کشمیریوں سےآزادی نہ چھینی جائے، اور گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔مشترکہ بیان کے تحت دوسرا مطالبہ ہے کہ بھارتی حکومت عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دے۔یو این کونسل کے تحت عالمی برادری نے تیسرا مطالبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کمیونیکیشن بلیک آؤٹ ختم کرے۔چوتھا مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو کا فوری خاتمہ کیا جائے، جب کہ پانچواں مطالبہ ہے کہ انسانی حقوق کمشنر کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بھی رپورٹ شایع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج رات کو گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو اٹھا کر بد ترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں