05:05 pm
نیپال سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی ریٹائرڈ کرنل کے بھارت کی قید میں ہونے کی خبریں

نیپال سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی ریٹائرڈ کرنل کے بھارت کی قید میں ہونے کی خبریں

05:05 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیپال سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی ریٹائرڈ کرنل کے بھارت کی قید میں ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے ریٹائرڈ کرنل جو کہ نوکری کے لیے نیپال گئے تھے اس وقت بھارت کی حراست میں ہیں۔ بھارتی میڈیا نے کہا ہے کہ کرنل (ر) حبیب ظاہر کو کلبھوشن کے بدلے پاکستان کو واپس کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کرنل (ر) حبیب ظاہر کی بھارت میں زیر حراست افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا
ہے کہ حبیب طاہر اپریل 2017میں نوکری کے لیے نیپال گئے جہاں سے لاپتا ہوگئے، حبیب طاہر کے اہل خانہ کے مطابق انہوں نے سی وی یو این اور لنک ڈن پر ڈالی تھی۔ اس کے بعد حبیب ظاہر کو مارک نامی شخص نے نوکری کے لیے منتخب ہونے کی اطلاع دی اور کرنل (ر) حبیب ظاہر کو لاہور سے اومان اور پھر کھٹمنڈو کا ٹکٹ دیا گیا، انہیں 6 اپریل 2017 کا ٹکٹ دیا گیا اور وہ زندگی میں پہلی مرتبہ نیپال گئے تھے۔کرنل (ر) حبیب ظاہر نیپال کے شہر لمبینی پہنچے جو بھارتی سرحد سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ لمبینی پہنچ کر انہوں نے اہل خانہ سے رابطہ کیا لیکن اس کے بعد ان کا اہل خانہ سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ کرنل (ر) حبیب ظاہر نے فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد سے فیصل آباد میں ملازمت کر رہے ہیں ، انہوں نے ملازمت کے لیے ایک ویب سائٹ پر آن لائن بھی اپلائی کیا تھا۔ملازمت کی تصدیق کرنے کے لیے کرنل (ر) حبیب ظاہر کو کھٹمنڈو آنے کا کہا گیا اور عمان ائیرلائن کی بزنس کلاس کی ٹکٹ بھی بھجوائی گئی۔ نیپالی پولیس کے مطابق ایک نامعلوم شخص کو ائیرپورٹ پر کرنل (ر) حبیب ظاہر کا استقبال کرتے ہوئے دیکھا گیا لیکن شہر میں ان کے قیام کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی ہوسٹ نے ویب سائٹ پر محمد حبیب سے رابطہ کیا تھا۔لیکن بعد ازاں وہ بھارتی ویب سائٹ بلاک کر دی گئی اور اس پر کوئی ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ برطانیہ سے مسٹر تھامسن کے نام سے آنے والی کال کا نمبر بھی جعلی نکلا۔ سکیورٹی حکام نے ان کی گمشدگی پر خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کرنل (ر) حبیب ظاہر کو دھوکے سے نیپال بُلا کر اغوا کر کے بھارت لے جایا گیا۔اب بھارت کی جانب سے یہ افواہیں آرہی ہیں کہ انہیں ابھی نندن کے بدلے پاکستان کو دیا جائے گا لیکن دفترِ خارجہ نے اسے محض افواہ قرار دیا ہے۔