03:42 pm
حجاب یونیفارم کا حصہ ہی بنانا تھا، اعتراض کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے، اوریامقبول جان

حجاب یونیفارم کا حصہ ہی بنانا تھا، اعتراض کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے، اوریامقبول جان

03:42 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرملکی صحافی اور تجزیہ کار اوریا مقبول جان خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے حجاب کو یونیفارم کا حصہ بنائے جانے کا حکم واپس لینے کے اقدام پر پھٹ پڑے ہیں، نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اوریا مقبول جان نے کہا کہ میں شدید دکھ میں ہوں کہ یہ فیصلہ ملک کے 22کروڑ عوام کےلئے نہیں تھا، یہ ہوائی جہا ز میں پہن کر بیٹھنے کےلئے نہیں تھا۔ نہ یہ بسوں اور سینما گھروں میں پہن کربیٹھنے کےلئے تھا ۔
یہ ایک یونیفارم کےلئے تھا۔ اور یہ بچیوں کے خلاف نہیں تھا بلکہ معاشرے کےکمینے مرد کے خلاف تھا، یہ قرآ ن کی آیت کے مطابق تھا جس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے نبیﷺ ! کہہ دیجئے اپنی بیویوں سے ، اپنی بیٹیوں سے ، اور تمام مسلمان عورتوں سے کہ جب باہر جایا کرو تو اپنے اوپر ایک چادر لٹکا دیا کرو،تاکہ پہچان لی جائو اور ستائی نہ جائو اوریامقبول جان نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہزارہا محکموں میں ایک یونیفارم ہے۔ وکیلو ںکا یونیفارم ہے، سکولوں کا یونیفارم ہے۔ پاک فوج کا یونیفارم ہے۔ پولیس کا یونیفارم ہے۔ یہ جن چار لونڈے لپاڑوں نے بکواس کی ہے کہ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ کبھی انھوںنے کہا ہے کہ وکیل عدالتوں میں کالا کوٹ پہنچ کر کیوںجاتے ہیں۔ٹائی لگا کر کیوں جاتے ہیں۔ کبھی جج بھی عدالت چپل پہن کر گیا ہے؟ کبھی جائے تو توہین عدالت ہوجائے گی ۔تو کیا دین کی حرمت سے بھی بڑھ کر کوئی چیز ہوسکتی ہے۔