05:13 pm
خورشیدشاہ نے سابق آڈیٹر جنرل کو اعتراضات کرنے پر سزا دلوائی تھی،

خورشیدشاہ نے سابق آڈیٹر جنرل کو اعتراضات کرنے پر سزا دلوائی تھی،

05:13 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر ملکی صحافی اور تجزیہ کار رئوف کلاسرا کہتے ہیں کہ خورشید شاہ نے 2013عمل میں چئیرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی ہوتے ہوئے احتسابی عمل کوبالکل مفلوج کر کے رکھ دیا تھا اور بہت سارےمتنازعہ فنڈز کی منظوری کروائی تھی۔ اس وقت اختر بلند رانا آڈیٹرجنرل آف پاکستان ہوا کرتے تھے۔ انھوںنے ایک بار چئیرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی خورشید شاہ کےسامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا اور یہ کہا کہ حکومت بھی پیپلزپارٹی کی ہے
اور چئیرمین پی اے سی بھی آپ ہیں۔ آپ کو یہاں نہیں ہونا چاہیے ، عہدہ چھوڑ دیناچاہیے۔ اس پر خورشید شاہ بہت برہم ہوئے اور موجودہ صدر عارف علوی سے شکایت کی کہ اختر بلند رانا کو سزاملنی چاہیے۔ اس پرعارف علوی نے اختر بلند رانا کی کرپشن ڈھونڈنی شروع کر دی۔ ایک بہت بڑی کرپشن ان کے ہاتھ لگ گئی اور وہ یہ تھی کہ اختر بلند رانا نے بحیثیت آڈیٹر جنرل آف پاکستان ہوتے ہوئے اپنی تنخواہ 25ہزار روپے بڑھوا لی تھی۔ اسی بنیاد پر انھیں نوکری سے نکال کر سزادے دی گئی۔

تازہ ترین خبریں