09:52 am
اب کوئی چیز درپردہ نہیں،سب پردے پر ہو رہا ہے، اعجاز شاہ

اب کوئی چیز درپردہ نہیں،سب پردے پر ہو رہا ہے، اعجاز شاہ

09:52 am

کوئٹہ: وفاقی وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ اب کوئی چیزدرپردہ نہیں، سب پردے پر ہو رہا ہے، انہوں نے ایک سوال ”پی ٹی آئی کی حکومت میں درپردہ اسٹیبلشمنٹ کا بڑا عمل دخل ہے، آپ کو نہیں لگتا کہ جمہوریت خطرے میں ہے؟“ کے جواب میں کہا کہ کونسی اسٹیبلشمنٹ ؟ میں اور میرے ساتھ سارے لوگ اسٹیبلشمنٹ کے ہیں، میرا نہیں خیال کہ کوئی درپردہ ایسی قوم ہے جس سے ہمارے تعلقات ہیں؟ کسی زمانے میں درپردہ چیزیں ہوتی تھیں، اب سب کچھ پردے کے اوپر ہے۔
 
انہوں نے آج یہاں کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں 40 روز سے زائد ہوگئے کرفیو لگا ہوا ہے، روٹی ، ادویات، اور پانی نہیں مل رہا۔میرا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں فضل الرحمان دھرنا نہیں دیں گے، ملکی مفادات کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، مسئلہ کشمیر پر یک زبان ہونا وقت کی ضرورت ہے۔مولا نا فضل الرحمان 10سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ہمیں چاہیے کہ لوگوں کو آگاہی دیں کہ بھارت یہ کام کرتا ہے اور یہ کام کرے گا۔اعجاز شاہ نے ایک سوال پر کہ سید خورشید شاہ کو نیب نے گرفتار کرلیا ہے، کیا کہیں گے؟ “ کے جواب میں کہا کہ توکیا ہوگیا؟ کچھ بھی نہیں ہونا،بڑے بادشاہ لوگ ہیں۔نیب والوں نے پکڑا ہے حکومت کے ساتھ کیا ڈیل ہوگی؟انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ بھئی دیکھیں اگر آپ غلط کام کرتے پکڑے جائیں اور آپ کو گرفتار کرلیا جائے تو کیا آپ ٹف ٹائم دیں گے؟اگر آپ کی اولاد سکول نہیں جاتی اور اس کو ٹف ٹائم دیتے ہو، توکیا آپ چاہیں گے کہ وہ سکول نہ جائے؟یہ کوئی بات نہیں ہے۔معمولات زندگی چلتا رہتا ہے۔چیلنجزکے باوجود صورتحال پہلے سے بہتر ہے۔انہوں نے سیف سٹی پراجیکٹ بننا چاہیے۔صرف کوئٹہ میں ہی نہیں بلکہ بلوچستان کے دوسرے شہروں میں سیف سٹی بنائیں گے، کیونکہ یہ لگژری نہیں بلکہ وقت کی ضرورت بن گئی ہے۔انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ کسی اتحادی کے ساتھ کوئی ناراضگی نہیں ہے، ناراضگی تو گھر میں بھی ہوجاتی ہے، آپ اپنی بیوی کو کہتے ہیں آلو گوشت پکاؤ، وہ نہیں پکاتی، وہ ماش کی دال پکا لیتی ہے۔تو ناراضگی ہوگئی ناں؟یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ بات طلاق پر چلی جائے۔وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے ایک سوال ”پی ٹی آئی کی حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کا بڑا عمل دخل ہوگیا ہے،آپ کو نہیں لگتا کہ جمہوریت خطرے میں ہے؟“ کے جواب میں کہا کہ کونسی اسٹیبلشمنٹ ؟میں اور میرے ساتھ سارے لوگ اسٹیبلشمنٹ کے ہیں، میرا نہیں خیال کہ کوئی درپردہ ایسی قوم ہے جس سے ہمارے تعلقات ہیں؟کسی زمانے میں درپردہ چیزیں ہوتی تھیں، اب سب کچھ پردے کے اوپر ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کا یہ کام نہیں کہ مکھن لگائے، غلط کام ، اچھے کام دونوں کو اجاگر کریں۔

تازہ ترین خبریں