12:52 pm
مقبوضہ کشمیر اور ملکی صورتحال  

مقبوضہ کشمیر اور ملکی صورتحال  

12:52 pm

                                                         تحریر: میمونہ عابد(باغ آزاد کشمیر)

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو تقریباً ڈیڑھ ماہ ہونے کو ہے اور وادی کی صورتحال بد سے بد ترین کی طرف جا رہی ہے۔جنّت نظیر وادی کشمیر خوفناک ترین منظر پیش کر رہی ہے۔حُرّیت قائدین ابھی تک نظر بند ہیں ۔ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔آئے دن مظلوم کشمیری شہید کیے جا رہے ہیں۔غرض کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے
۔ابھی تک وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بند ہیں۔بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی انتہائی قلّت ہے جو معصوم کشمیریوں کو موت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس سب کے باوجود بہتری کی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی اور نہ ہی موجودہ حکومتی روش سے اس قسم کی کوئی توقع کی جا سکتی ہے۔مودی اور اس کے حکومتی ارکان انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا اندرونی مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔اس ضمن میں بین الاقوامی برادری خصوصاً بڑے لیڈران کے بیانات حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔لیکن اتنا ضرور ہوا ہے کہ مسئلہ کشمیر اب پوری دنیا کے سامنے ظاہر ہو چکا ہے۔عالمی میڈیا توجّہ اور انہماک سے کشمیر ایشو کو جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔بہت سی ہیومن رائٹس آرگنائزیشنز اور ان سے منسلک شخصیات نے کشمیر کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے۔جنیوا انسانی حقوق کونسل میں ۵۸ ممالک نے۶ نکاتی مشترکہ بیان میںکونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے فوری کرفیو ختم کرائے اور بھارت کی جانب سے گرفتار افراد کو رہا کرانے اور عالمی تنظیموں اور میڈیا کو وادی تک رسائی دینے کے اقدامات کرے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی جنیوا میں انسانی حقوق کی کمشنر مشیل باشلے سے ملاقات کی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا جس پر کمشنر برائے انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ کشمیر میں انسانی حقوق پر کسی طرح کاسمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے آسام کے مسلمانوں کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ بھارت ان کی شہریت منسوخ کر کے انھیں در بدر نہ کرے بلکہ انھیں تحفظ فراہم کرے۔اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ نے بھی کشمیر کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔امریکہ کے صدر ٹرمپ خود تو ــــ’تشویش‘ سے آگے نہیں بڑھے البتہ امریکی اراکین سینٹ نے صدر ٹرمپ کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میںکہا گیا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔نیز انھوں نے صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کی بھی انھیں یا دہانی کروائی ہے۔ایسا ہی کچھ ردِّ عمل امریکی اراکین کانگریس کی طرف سے بھی آیا ہے اور برطانوی لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ نے مقبوضہ وادی کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔نتیجتاً  کشمیر۷۰ سال بعد بالآخر پوری دنیا کی توجّہ کا مرکز بن گیا ہے۔بلا مبالغہ پاکستان دنیا کو کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے بارے میں آگاہ کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔آنیوالے دنوں میں وزیراعظم عمران خان جنرل اسمبلی کے خطاب میں کشمیر کے حوالے سے بات کریں گے جس سے کشمیر ایشو کو مزید کوریج ملے گی۔اور یہ پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے کہ یورپی ممالک بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔اس وقت پاکستانی سیاسی اور عسکری  قیادت کی باہم مشاورت سے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو کہ ہمارے لیے بہت اچھا شگون ہے ۔میرے خیال میں اس وقت تمام سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنے تمام تر انفرادی مفادات بھلا کر ایک پیج پر اکٹھا ہونا چاہیے ۔یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ آپ واقعی میں کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے مخلص ہیں۔ہماری سیاسی بصیرت میں جس قدر شدت در آئی ہے اس میں احتجاج کا ہونا تو ایک عام سی شے ہے ،ٹھیک ہے ہر سیاسی پارٹی کو اس کا حق بھی حاصل ہے ۔جے یو آئی کے سربراہ مولانہ فضل الرحمن نے اسلام آباد میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے لیکن انہوں نے ایک ایسا وقت منتخب کیا ہے جو موجودہ قومی اور بین الاقوامی صورتحال کے لیے بالکل بھی موزوں نہیں ہے۔ میں اس سلسلے میں معروف کالمسٹ خالد مسعود صاحب سے با لکل متفق ہوں کہ کوئی بھی چیز جتنی بھی بری ہو اتنے برے اثرات مرتّب نہیں کرتی اگر آپ اس کے لیے ایک صحیح وقت کا استعمال کریں۔یہاں سب کو اپنے اپنے اقتدار کی فکر کھائے جا رہی ہے ۔قومی مفاد اور مظلوم کشمیری عوام کے حقوق دُور بہت دُور رہ گئے ہیں۔خدارا اس نازک موڑ پر اپنے تمام تر سیاسی اختلافات بھُلا کر متّحد ہو جائیں اور کشمیریوں کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔خیر سے آپ ایز آ چیئر مین آف کشمیر کمیٹی بھی اپنی ِـ’خدمات‘ سے مُستفید کرتے رہے ہیں۔دریں اثناء لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔بھارتی چوکیوں سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ جنگی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اچانک سے دہشتگردی کے یکے بعد دیگرے واقعات ہو رہے ہیں۔امریکہ افغان امن مذاکرات منسوخ ہوئے اور بھارت اور افغان حکومت نے سکون کا سانس لیا۔اب بھارت ہمیشہ کی طرح افغانستان کی سرزمین کو اپنا گڑھ بنا کر اپنے اندر کا زہر نکال رہا ہے۔ماضی میں بھی بھارت نے ہمیشہ اسی طرح کی چالبازیوں اور مکّاریوں سے ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور وہاں سے ہو کر پاکستان میں دہشتگردی پھیلائی جس کی ایک کڑی کلبھوشن یادیو سے جا ملتی ہے۔اس ضمن میں میری ناقص رائی کے مطابق پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا آپشن بہترین ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق جہاں تک باڑ مکمل ہو چکی ہے ان علاقوں کی صورتحال کافی حوصلہ افزاء ہے۔بھارت اقوام ِعالم کی توجّہ کشمیر سے ہٹانے کے لیے طرح طرح کے پراپگنڈے کرنے میں مصروف ہے۔لائن آف کنٹرول پر جنگی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی،قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات اور بھارتی حکومت کے بوکھلاہٹ کے شکارلیڈران کے انتہا پسند بیانات۔۔۔۔ان سب کی اصل یہی ہے کہ بھارت دنیا بھر سے اہلِ کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کا رخ موڑ کر دوسری جانب کرنا چاہتا ہے  اور قوّی امکان یہ بھی ہیں کہ چالاک دشمن ایک بار پھر پلوامہ طرز کا کوئی ڈرامہ رچا کر ہمیشہ کی طرح اسکا ملبہ پاکستان پر گرانے کی کوشش کرے جو کہ ان کی روایت چلی آ رہی ہے۔تاکہ عالمی توجّہ کا مرکز کشمیر کچھ عرصے کے لیے پسِ منظر میں چلا جائے۔جو بھی ہو لیکن اب مصالحت کی کوئی گنجائش تو بہرحال باقی نہیں رہی۔آخر کب تک یہ مسئلہ التوا کا شکار رہ سکتا ہے۔کوئی نہ کوئی حل تونکلنا ہے اور اب کی بار جوفیصلہ ہو گا وہ ہمیشہ کے لیے ہو گا۔لگتا ہے مودی سرکار اپنے ہی بنائے ہوئے جال میں پھنس چکی ہے جہاں سے کوئی راہِ فرار نظر نہیں آرہی۔حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیر سے کرفیو ہٹانے حکم دیا ہے اور ساتھ ہی ایک کانگریس رہنما کو بھی وادی کا دورہ کرنے اور شواہد اکٹھے کرنے کو کہا ہے۔صدر ٹرمپ نے بھی کل کے بیان میں کہا ہے کہ وہ جلد پاک بھارت قیادت سے ملاقات کریں گے۔ایک طرف ثالثی کی پیشکش اور دوسری طرف ہیوسٹن میں ہونے والے ہندوستانی باشندوں کے اجتماع"Howdy 
  Modi"میں صدر ٹرمپ کی شرکت کیا واضع کر رہی ہے ۔آیا یہ ہمارے لیے ہری جھنڈی ہے یا دو طرفہ چال ؟ اس کے باوجود اگر متوقع ملاقات ہوتی ہے تو اسکے کیا نتائج نکلیں گے ؟آیا بھارت امریکہ کی ثالثی قبول کر لے گا  یا امریکہ مسئلہِ کشمیر کو بھارت کے اندرونی مسئلے کے طور پر ہی روشناس کراے گا؟یہ جاننے کے لیے ہمیں آنے والے وقت کا انتظار کرنا ہو گا۔
 

تازہ ترین خبریں

ہندو کمیونٹی کی میڈیکل سٹوڈنٹ نمرتا کماری کیس میں بہت بڑی پیش رفت، نمرتا کی کیا اہم ترین چیز مہران ابڑو کے پاس سے برآمد ہو گئی

ہندو کمیونٹی کی میڈیکل سٹوڈنٹ نمرتا کماری کیس میں بہت بڑی پیش رفت، نمرتا کی کیا اہم ترین چیز مہران ابڑو کے پاس سے برآمد ہو گئی

ضرورت سے زائد بیلٹ باکسز، اضافی فولڈ ایبل سکرینز کی خریداری عام انتخابات 2018 میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

ضرورت سے زائد بیلٹ باکسز، اضافی فولڈ ایبل سکرینز کی خریداری عام انتخابات 2018 میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

  گوجرانوالہ میں سندس نامی لڑکی نے یاسین کو ملنے کے بہانے بلایا اور کچھ دیر بعد ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کیساتھ عبرتناک کام کر ڈالا

گوجرانوالہ میں سندس نامی لڑکی نے یاسین کو ملنے کے بہانے بلایا اور کچھ دیر بعد ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کیساتھ عبرتناک کام کر ڈالا

اورنج لائن میٹرو ریل سسٹم قومی خزانے پر بوجھ بن گیا منصوبے کے کچھ اجرا میں کمی کے باوجود لاگت کتنی بڑھ گئی ،جانئے

اورنج لائن میٹرو ریل سسٹم قومی خزانے پر بوجھ بن گیا منصوبے کے کچھ اجرا میں کمی کے باوجود لاگت کتنی بڑھ گئی ،جانئے

وادی میں بہت مارپیٹ،والدین یا فیملی سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا ، مدینہ میں کشمیری نوجوان نے شاہ محمود کو مظالم کی داستان سنا ڈالی

وادی میں بہت مارپیٹ،والدین یا فیملی سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا ، مدینہ میں کشمیری نوجوان نے شاہ محمود کو مظالم کی داستان سنا ڈالی

میں پھانسی لگنے جا رہا ہوں اس لیے اب یہ بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ ۔۔۔!زینب کے قاتل نے پھانسی پر چڑھتے وقت کیا انکشاف کیا تھا

میں پھانسی لگنے جا رہا ہوں اس لیے اب یہ بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ ۔۔۔!زینب کے قاتل نے پھانسی پر چڑھتے وقت کیا انکشاف کیا تھا

بھارت کی پاکستان کے اہم ترین علاقے پر شدید گولہ باری باری، چنا ب رینجرز نے پھر وہ کیا کہ بھاتیوں کو 1965یاد آگیا

بھارت کی پاکستان کے اہم ترین علاقے پر شدید گولہ باری باری، چنا ب رینجرز نے پھر وہ کیا کہ بھاتیوں کو 1965یاد آگیا

عثمان بزدار کو ہٹایا جا نا اب لاز م ہو گیا ، جانتے ہیں کس انتہائی بااثر حلقے نے پیغام بھجوا دیا

عثمان بزدار کو ہٹایا جا نا اب لاز م ہو گیا ، جانتے ہیں کس انتہائی بااثر حلقے نے پیغام بھجوا دیا