10:07 am
جیل سے رہا ہوتے ہی رکن اسمبلی محسن داوڑ نے ایک اور ٹوئٹ داغ دیا ، کیا کیا دعوےکر ڈالے

جیل سے رہا ہوتے ہی رکن اسمبلی محسن داوڑ نے ایک اور ٹوئٹ داغ دیا ، کیا کیا دعوےکر ڈالے

10:07 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جیل سے رہائی کے بعد رکن اسمبلی محسن داوڑ کا پہلا ٹویٹ آگیا ۔ تفصیلات کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں محسن داوڑ نے کہا کہ ہم پہلے جیسے جوش و جذبے کے ساتھ واپس آ گئے ہیں۔ خڑ کمر واقعہ کو تاریخ میں پُر امن احتجاج پر حکومت کے ظالمانہ رد عمل کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس کے بعد بھی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی کئی خلاف ورزیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا
کہ مئی سے ستمبر تک ہمیں پشاور جیل میں اور ہھر ہری پور جیل میں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہری پور کی جیل میں حکومتی دبآ کے پیش نظر ہمیں دہشتگردوں کے سیل میں رکھا گیا۔ جیل میں نہ تو ہم چل قدمی کر سکتے تھے اور نہ ہی ہمیں خبریں دیکھنے ، پڑھنے یا اس حوالے سے دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سب میں سب سے زیادہ تکلیف دہ ہم جیسے بے ضرر انسانوں پر تشدد کے الزامات عائد ہونا تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود ہم اپنے لوگوں کے مساوی حقوق اور امن کے قیام کے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹے ، اور یہ تمام چیزیں آگے بھی ہمیں اپنے راستے سے نہیں بھٹکا سکتیں جو تشدد سے پاک راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل تو بہت چھوٹی چیز ہے ہم اپنے لوگوں کے لیے جانیں بھی قربان کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے لیے آواز اُٹھانے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت سارے لوگوں کا شکرگزار ہوں لیکن میں ایک نام لینا چاہتا ہوں اور وہ بلاول بھٹو زرداری کا ہے جنہوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہماری بے پناہ حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوششیں بہت طویل ہے اور یہ صرف پشتونوں کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ ریاستی پریشر سے پریشان ہر شخص کے لیے ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی کمزور یہاں پر اچھے لوگوں کی خاموشی ہے۔ اچھے لوگوں نے لب کُشائی کی تو پاکستان میں اسٹیٹس کو کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے رہائی کے بعد کیے گئے ٹویٹر پیغام میں اپنی لیگل ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا۔ یاد رہے کہ تین روز قبل ہائیکورٹ نے ارکان قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں محسن داوڑ اور علی وزیر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔