10:46 am
 وزیراعظم 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد دوست ممالک کے دوروں پر کیوں نہیں گئے

 وزیراعظم 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد دوست ممالک کے دوروں پر کیوں نہیں گئے

10:46 am

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے تمام سوالوں کے جواب دے دیے ہیں کہ وزیراعظم 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد دوست ممالک کے دوروں پر کیوں نہیں گئے۔ وزیرِ خارجہ نے امریکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لئے یہ بہت آسان تھا کہ وزیراعظم جہاز پکڑتے کبھی ایک دارالخلافہ جاتے کبھی دوسرے لیکن اقوامِ متحدہ کا اجلاس نظر آرہا تھا تو ہم نے بہتر حکمت عملی بنائی کہ اس اجلاس کے دوران ایک ہی چھت کے نیچے تمام ممالک کے سربراہان کو ایک ساتھ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے آگاہ کریں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم اس ایک ہی جگہ پر تمام ممالک کے سربراہان کو حالات سے آگاہ کریں گے، وزیراعظم عمران خان مختلف ممالک کے سربراہان سے الگ الگ ملاقات بھی کریں گے اور انہیں اعتماد میں لیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے ، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے،تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی ان کی ملاقاتیں ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کشمیری وفد سے ملاقات کریں گے اور ان کے تاثرات لیں گے اور ان سے مشاورت کی بنیاد پر ہم اپنی انگیجمنٹس جاری رکھیں گے۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے،اس کے علاوہ تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی ان کی ملاقاتیں ہوں گی،یہاں کے دو معروف تھینک ٹینکس ایشیا سوسائٹی اور کونسل فار فارن ریلیشنز سے بھی وزیر اعظم ملیں گے اور تبادلہ خیال کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ترکی، ملائشیا اور پاکستان مل کر ایک سہ ملکی اجلاس اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے حوالے سے وزیراعظم بات کرنا چاہ رہیں ہیں کیونکہ دیرپا ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے احساس پروگرام بہت اہم ہے اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی وزیر اعظم اظہار خیال کریں گے۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ وزیر اعظم فناشل ورلڈ کے اہم لوگوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے بھی وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کی اہم ملاقاتیں ہوئیں اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیاجہاں پاکستان نے ان سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے وہاں ان سے یہ بھی کہا ہے کہ ایسا فیصلہ عجلت میں نہیں کرنا چاہیے جس سے خطے کا امن متاثر ہو۔

 

تازہ ترین خبریں