03:21 pm
ٹرمپ نے کہا اسلام دہشتگرد مذہب ہے میں بتانا چاہتا ہوں اسلام ایک ہی ہے

ٹرمپ نے کہا اسلام دہشتگرد مذہب ہے میں بتانا چاہتا ہوں اسلام ایک ہی ہے

03:21 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مودی کے جلسے میں اسلام کو نشانہ بنانے پر وزیراعظم عمران خان کا ڈونلڈ ٹرمپ کو منہ توڑ جواب، امریکی تھنک ٹینکس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ اسلام ایک ہی ہے، اکثریت اعتدال پسند ہے اور ایک چھوٹی سی تعداد انتہا پسند ہے، ہمارے لیے اسلام وہ ہے جو ہمارے نبی محمدﷺ ہمیں دے کر گئے، دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کے خوفناک نتائج سامنے آئیں گے ۔ نیویارک میں امریکی تھنک ٹینکس کونسل فارفارن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام مخالف بیان پر ردعمل دیا۔ گزشتہ روز مودی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ اس پر وزیراعظم نے جواب دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسا کرنا خطرناک نتائج کی وجہ بن سکتا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمارے لیے اسلام وہ ہے جو ہمارے نبی محمدﷺ ہمیں دے کر گئے۔ اسلام ایک ہی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت اعتدال پسند ہے اور ایک چھوٹی سی تعداد انتہا پسند ہے۔ اس چھوٹی سی تعداد کی وجہ سے تمام مسلمانوں اور اسلام کو بدنام نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کرکٹ سے میں سیکھا کہ کامیابی کیلئے کیسے جدوجہد کی جاتی ہے۔ کھیل آپ زندگی کے اہم سبق سکھاتے ہیں۔میں نے کرکٹ میں سیکھا کہ مقصد کو حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کیسے کرنی ہے۔22سال کی جدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 13ماہ پہلے حکومت ملی تومعاشی حالات بہت خراب تھے۔ماضی کی حکومتوں نے مالی معاملات احسن طریقے سے نہیں چلائے۔سابق حکومتوں کی ناکامیوں کے باعث بدحال معیشت ورثے میں ملی، جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ مالی خسارہ زیادہ ہوتوملکی معیشت برے حال میں ہوتی ہے۔گھروں کو چلانے کیلئے بھی اخراجات کم اور آمدن بڑھا نا ہوتی ہے۔لیکن ماضی میں اخراجات کے مقابلے میں آمدن کو نہیں بڑھایا گیا۔گزشتہ زمانے میں 5فیصد معاشی ترقی کی شرح درآمدات کی وجہ سے تھی۔چین ، سعودی عرب اور یواے ای کی مدد سے معیشت کو سنبھالا، چین سے صنعتیں پاکستان آنے پر ہماری معیشت پاؤں پر کھڑی ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا نائن الیون کے بعد امریکا کی دہشتگردی کی جنگ کا حصہ بننا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی۔روس کیخلاف جنگ میں جہادیوں کو ہیروبنایا گیا، پاکستان نے روس کیخلاف امریکا کے ساتھ ملکر مزاحمت کی۔ لیکن امریکا نے افغانستان سے جانے کے بعد پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا۔پھر نائن الیون کے بعد امریکا اچانک ان جہادیوں کو دہشتگرد کہنا شروع کردیا۔ نائن الیون کے بعد امریکا کو پھر پاکستان کی ضرورت پڑی اورہمیں کہا گیا کہ ان جہادیوں کے خلاف لڑیں۔دہشتگردی کی جنگ میں 70ہزار پاکستانیوں نے جانیں قربان کیں۔ جبکہ 200ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 27لاکھ افغان مہاجرین رہ رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں واحد وہ شخص ہوں جس کا ہمیشہ مئوقف رہا کہ افغان مسئلے کا واحد حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔2008ء میں امریکا آیا تو یہاں بتایا کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں۔کیونکہ افغان آپس میں لڑتے ہیں لیکن بیرونی حملے کے خلاف ملکر لڑتے ہیں۔ماضی کے مقابلے میں طالبان زیادہ مضبوط ہیں ان کا مورال زیادہ بلند ہے۔افغان شہری 40سال سے مشکل صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں