09:30 am
 پاکستان کے 70 فیصد علاقے زلزلے کی خطرناک فالٹ لائن پر موجود ہیں

پاکستان کے 70 فیصد علاقے زلزلے کی خطرناک فالٹ لائن پر موجود ہیں

09:30 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے دو تہائی علاقے زلزلے کی فالٹ لائن پر موجود، کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق منگل کے روز پاکستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں تشویش ناک تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 70 فیصد علاقے زلزلے کی خطرناک فالٹ لائن پر موجود ہے۔
پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائن پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان “انڈین پلیٹ” کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ”سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔پاکستان کا دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانی درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں۔بتایا گیا ہے کہ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ جن علاقوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے وہاں 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد آئے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں ان زلزلوں کی شدت اس قدر شدید ہو جاتی ہے کہ اس باعث شہری آبادیاں تباہی کا شکار بن جاتی ہیں۔