03:42 pm
وزیرِ مملکت علی محمد خان کو وزارت سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا

وزیرِ مملکت علی محمد خان کو وزارت سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا

03:42 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرِ مملکت علی محمد خان کو وزارت سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ میں 8سے 10وزراء اور مشیروں کو تبدیل کیا جارہا ہے، علی محمد خان کو وزارت مملکت برائے پارلیمانی امور سے ہٹائے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں8 سے 10 وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا، شفقت محمود کو وفاقی وزیرداخلہ، اسد عمر وفاقی وزیرپٹرولیم ،
زبید جلال کو وزیرتعلیم، علی محمد خان، فواد چودھری کی بھی وزارت تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرعظم عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے سفارتی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔مسئلہ کشمیر کو دبنے نہیں دیں گے، وزراء اور ارکان اسمبلی خاموش نہ رہیں۔ اجلاس میں کی پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے سوالات کے انبار لگا دیے۔ ارکان نے کہا کہ وزراء ہماری بات نہیں سنتے نہ ہی ملاقات کا وقت دیتے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ آج کل میں فارغ ہوں اس لیے ارکان اسمبلی سے بھی ملاقات کرتا رہتا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر کو نئی ذمہ داریاں دینے کا عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسد عمر آپ زیادہ دیر فارغ نہیں رہو گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جن وزراء کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہے ان کوتبدیل کردوں گا۔ ذرائع کے مطابق علی محمد خان کو وزارت مملکت برائے پارلیمانی امور سے ہٹائے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر نورعالم پر بھی برس پڑے، انہوں نے کہا کہ نورعالم میں نے آپ کی قومی اسمبلی والی تقریر سنی ہے۔ گزشتہ ادوار میں جو لوٹ مار ہوئی تب نورعالم کیوں نہیں بولے؟ کیا نورعالم تمہیں پچھلی حکومت میں مہنگائی نظر نہیں آئی؟ اب یاد آیا مہنگائی ہے؟ گزشتہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے۔ کیا جب آپ پچھلی حکومت میں تھے تب کیوں تنقید نہیں کرتے تھے؟جس پر نورعالم نے کہا کہ میں پچھلی حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایسے جذبات اور احساسات کا اظہار پارلیمانی پارٹی کے اندر کیا کریں۔

تازہ ترین خبریں