11:25 am
پولیس ریفارمز پر وزیراعظم کے ساتھ ہاتھ کرنے کی کوشش، کس شخصیت نے پولیس ریفارمز کا ڈرافٹ عمران خان سے پہلے شہباز شریف کو بھجوادیا

پولیس ریفارمز پر وزیراعظم کے ساتھ ہاتھ کرنے کی کوشش، کس شخصیت نے پولیس ریفارمز کا ڈرافٹ عمران خان سے پہلے شہباز شریف کو بھجوادیا

11:25 am


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کے ایک خاص گروپ نے وزیراعظم عمران خان کو پولیس یفارمز پر مس گائیڈ کیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس میں جو ریفارمز نہیں ہو رہیں یہ تباہی کا باعث ہے۔عارف حمید بھٹی نے مزید انکشاف کیا کہ بیوروکریسی کا یہ گروپ پولیس ریفارمز کا ڈرافٹ پہلے ہی شہبازشریف کو بھیج چکے تھے اور ان کا نام ہے علی مرتضیٰ۔علی مرتضیٰ نے ماڈل ٹاؤن سانحہ میں شواہد مٹانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔علی مرتضیٰ نے مسودہ تیار کیا اور وزیراعظم عمران خان کے پاس لے گئے۔عمران خان نے وہ مسودہ پڑھا نہیں تھا اور انہوں نے عمران خان کو اندھیرے میں رکھا۔جس کے بعد اچانک وزیر قانون پنجاب آئی جی پنجاب کو بلاتے ہیں۔جس پر انہوں نے کہا کہ یہ کیسا مسودہ ہے،پولیس کی دو لاکھ اہلکاروں ہر مشتمل فورس ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں ہے
ش ۔آپ ہمیں بیوروکریسی کے ماتحت کرنا چاہ رہے ہیں۔بیوروکریسی کا تو ہر محکمہ تباہ ہو چکا ہے۔آئی جی پنجاب نے وزیر قانون کو مثالیں دے کر بتایا۔انہوں نے ملک کی معیشت تباہ کی۔یہ ہر ادارے میں میں ہوتے ہیں۔اس کے بعد وزیراعظم کو تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا جس کے بعد انہوں نے آئی جی پنجاب کو طلب کیا۔وزیراعظم بھی آئی جی پنجاب کی باتیں سن کر حیران رہ گئے اور کہا کہ مجھے تو یہ باتیں معلوم ہی نہیں تھیں۔جس کے بعد عمران خان نے کہا کہ پولیس اپنی ریفارمز کر کے لائے۔جب کہ دوسری جانب پنجاب پولیس نے اپنی کارکردگی کو جانچنے کے لئے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس ضمن میں ہارورڈ اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسزسے معاہدہ کیا گیا ہے ۔معاہدے کے مطابق دونوں جامعات کے ریسرچرز پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سروے کریں گے۔ محکمہ پولیس پر کیے جانے والے سروے میں پولیس کلچر، فرنٹ ڈیسک، خدمت مراکز، پولیس اسٹیشنز اورپولیس کے رویوں کا جائزہ لیا جائے گا اور اس سروے کی رپورٹ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو پیش کی جائے گی۔یونیورسٹریز پولیس کے نئے پراجیکٹس اور پولیس کے عوام سے رویہ کے بارے میں بھی سروے کریں گی، یونیورسٹیز کی رپورٹ کی روشنی میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف ایکشن بھی لیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں