05:46 pm
مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کیس,تحریک انصاف کی چار درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کیس,تحریک انصاف کی چار درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

05:46 pm

اسلام آباد ( آن لائن) الیکشن کمیشن نے مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کی چار درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا،جو 10 اکتوبر کو فیصلہ سنائیگا،الیکشن کمیشن سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ سنائیگاجبکہ چیف الیکشن کمشنر سر دار محمد نے کہا ہے کہ ٹی وی اگر کچھ آتا ہے تو آپ نظر انداز کریں،ٹی وی پر کوئی خبر چلتی ہے تو اس پر کمیٹی کیسے ذمہ دار ہوگی۔منگل کو تحریک انصاف کی مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کیس میں چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کی۔درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن اور تحریک انصاف کے وکیل ثقلین حیدر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔
تحریک انصاف نے درخواست کی کہ سکروٹنی کمیٹی کی کاروائی کی لیکج روکی جائے۔ وکیل تحریک انصاف نے کہاکہ چاروں درخواستوں میں یہی مطالبہ کیا ہے کمیٹی کی کاروائی کی لیکج روکی جائے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ اگر کچھ میڈیا پر ا?جاتا ہے تو اس میں کمیٹی کا کیا قصور۔ وکیل پی ٹی آئی ثقلین حیدر نے کہاکہ ہماری کچھ معلومات باہر لیک کی جاتی ہیں رازداری نہیں آتی۔ وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی سے متعلق غلط خبریں چلوائی گئیں،غلط خبریں چلوانے کا مقصد پی ٹی آئی کو بدنام کرنا تھا۔ انہوںنے کہاکہ بدنیتی کی بنیاد پر خبریں درخواست گذار چلواتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سر دار رضا نے کہاکہ ساڑھے پانچ سال میں آپ کے ساتھ ہوا کیا ہے جو بدنیتی کا الزام لگا رہے ہیں۔ وکیل تحریک انصاف نے کہاکہ ہم نے درخواست گذار کی بدنیتی کی بات کی ہے۔تحریک انصاف نے مطالبہ کیاکہ سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک کرنے سے روکی جائے۔ انہوںنے کہاکہ کمیٹی کی غلط معلومات لیک کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ وکیل تحریک انصاف نے کہاکہ گمراہ کن معلومات پر ہمارا میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ ٹی وی اگر کچھ آتا ہے تو آپ نظر انداز کریں،ٹی وی پر کوئی خبر چلتی ہے تو اس پر کمیٹی کیسے ذمہ دار ہوگی۔وکیل درخواست گزار نے کہاکہ ہم کمیٹی پر الزام نہیں لگا رہے آپ ذمہ داروں کا تعین کریں۔ انہوںنے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی نے دو بار معلومات لیک کرنے سے روکا پھر بھی اکبر ایس بابر نے غلط باتیں میڈیا پر نشر کیں۔ پی ٹی ا?ئی وکیل نے اکبر ایس بابر کا نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو کا ٹرانسپکرپٹ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کردیا۔چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ جن 23 اکاونٹس کا ذکر کیا جا رہا ہے کیا یہ اسٹیٹ بینک نے لکھا ہے انکے اکائونٹس ہیں۔ وکیل احمد حسن نے کہاکہ اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو تحریک انصاف کے 23 اکائونٹس کے بارے میں بتایا ہے،تحریک انصاف جن ٹی وی رپورٹس کا ذکر کر رہی ہے اس میں ان کے اپنے لوگوں نے انفارمیشن لیک کی۔ انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف انفارمشن لیکج کا بہانہ بنا کر بھاگ رہی ہے۔وکیل احمد حسن نے کہاکہ کمیٹی کی ہر میٹنگ میں تحریک انصاف کی نمائندگی موجود تھی،تحریک انصاف کے نمائندہ کی عدم حاضری کے باعث کمیٹی میٹنگ بھی نہیں ہوتی تھی۔ انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کی غیر موجودگی میں کمیٹی کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی کی تشکیل کے بعد دوسری بار کمیشن کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی چار درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا،الیکشن کمیشن 10 اکتوبر کو تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ سنائیگا،الیکشن کمیشن سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ سنائے گا