06:46 am
ملابرادر کی سربراہی میں طالبان وفد آج اسلام آباد پہنچے گا

ملابرادر کی سربراہی میں طالبان وفد آج اسلام آباد پہنچے گا

06:46 am

اسلام آباد : افغان امن مذاکرات کے سلسلے میں ملا عبد الغنی برادر کی سربراہی میں طالبان وفد آج اسلام آباد پہنچے گا، جبکہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمےخلیل زاد اسلام آباد میں پہلے سے موجود ہیں، طالبان کاوفد زلمےخلیل زاد سے ملاقات کرے گا۔تفصیلات کے مطابق افغان طالبان کے دوحہ دفترکے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان کاوفدآج اسلام آباد جائے گا، ملا عبدالغنی برادرکی سربراہی میں افغان طالبان کا وفدپاکستانی حکام سے ملاقات کرے گا، وفد باضابطہ دعوت پر پاکستان کا دورہ کررہا ہے۔
 
دوسری جانب افغان امن عمل کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اسلام آبادمیں پہلے سے موجود ہیں، زلمےخلیل زاد گزشتہ روزچین سے پانچ رکنی وفد کے ساتھ پاکستان پہنچے تھے، طالبان کا وفد امریکی نمائندہ خصوصی سے بھی ملاقات کرے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ زلمے خلیل زاد پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جس میں امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں پیدا ڈیڈ لاک پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔یاد رہے امریکا سے مذاکرات کی ناکامی پر افغان طالبان کا وفد روس اور چین کا دورہ کرچکا ہے، جہاں ملاقاتوں میں امریکا کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات پر بات چیت کی گئی تھی۔بعد ازاں طالبان رہنما ملاشیر عباس نے رشین ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ہم نے امریکا پر نہیں امریکا نے افغانستان پر جنگ مسلط کی، وہ ہمارے ہزار لوگ مار سکتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے ایک دو مارنے کا حق ہے، اگر امریکا مذاکرات نہیں چاہتا تو ٹھیک ہے ہم سو سال تک بھی لڑسکتے ہیں۔خیال رہے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا میں بھی زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں افغان امن عمل پرپاکستان اورامریکا کی مشترکہ کوششوں پرتبادلہ خیال ہوا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے امریکا طالبان مذاکرات منسوخی کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکا اور طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے ، میری پوری کوشش ہو گی امریکا طالبان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں، افغان امن سےمتعلق معطل مذاکرات بحال کرانے کی پوری کوشش کروں گا۔واضح رہے کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ تقریباً طے پاچکے تھا تاہم 8 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کابل حملے کے بعد منسوخ کیے گئے ہیں۔امریکا کی جانب سے افغان امن عمل مذاکرات کا سلسلہ منسوخ کیے جانے کے بعد طالبان نے خبردار کیا تھا کہ اگر واشنگٹن امن کے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دیتا ہے تو پھر طالبان بھی جنگ کے لیے تیار ہیں۔