01:28 pm
چونیاں سانحہ کے ملزم کو پکڑنے کیلئے کیسے کیسے بھیس بدلے

چونیاں سانحہ کے ملزم کو پکڑنے کیلئے کیسے کیسے بھیس بدلے

01:28 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چونیاں واقعہ کے مرکزی ملزم کو گذشتہ روز گرفتار کیا جس کا اعلان وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ چونیاں واقعہ کے ملزم کی گرفتاری کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو مبارکباد پیش کی لیکن حال ہی میں چونیاں واقعہ کے ملزم کی گرفتاری کے لیے بھیس بدل کر انڈر کور رہنے والے پولیس اہلکاروں کی تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں۔ یہ تصاویر پی آر او قصور پولیس ساجد انصاری نے شئیر کیں۔
ان تصاویر پر سوشل میڈیا صارفین نے پولیس اہلکاروں کی ہمت اور ان کی جانب سے تحقیقات اور ملزم کی گرفتاری کے لیے کی جانے والی محنت اور پُر خلوص کوششوں کو خوب سراہا۔ ان تصاویر کو شئیر کرتے ہوئے صارف نے کہا کہ یہ وہ پولیس اہلکار ہیں جنہوں نے سانحہ چونیاں کیس ٹریس کرنے کے لئے وردیاں اتاریں اور نڈر کور" کام کیا ۔ ان پولیس اہلکاروں نے انڈر کور رہنے کے لیے بھیس بدل کر پاپڑ ، پکوڑے، سموسے، چپس، پھل اور قلفیاں فروخت کیں۔ ان پولیس اہلکاروں نے غبارے بیچے ، سگریٹ فروخت کئے، رکشہ چلایا اور مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے پورے علاقے کی ریکی کی ۔ ریکی کے دوران ان پولیس اہلکاروں کی جانب سے مشکوک افراد کو پوائنٹ آوٹ کیا گیا۔ اور ملزم کے گرد گھیرا تنگ کیا ۔ اس دوران ان پولیس اہلکاروں نے ایک ایک گھر کی خبر رکھی اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ گلیوں اور کوچوں کا جائزہ بھی لیا۔کئی لوگوں سے کافی کچھ دریافت بھی کیا جس کے بعد بالآخر چونیاں واقعہ کے مرکزی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جس نے کئی ماؤں کی گود اُجاڑ دی۔ اس مشن میں جہاں خاتون پولیس اہلکار بھی اپنے ساتھی اہلکاروں کے ساتھ پیش پیش رہیں اور ملزم کو پکڑنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا پر ان پولیس اہلکاروں کی تصاویر وائرل ہوئیں تو انہیں ''گمنام'' ہیرو قرار دیا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ ہم پولیس پر آئے دن تنقید کرتے اور پولیس کو بُرا بھلا کہتے ہیں لیکن ان تصاویر کو دیکھ کر پولیس کے لیے دل میں عزت پیدا ہوئی جنہوں نے ایک کیس کو حل کرنے کے لیے اپنی پُر خلوص اور حتی الامکان کوشش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ واقعہ کا مرکزی ملزم پولیس کی گرفت میں آ گیا۔