03:16 pm
اگر بنی گالاریگولرائز ہوسکتا ہے تو باقی کیوں نہیں،چیف جسٹس اہم کیس میں برہم

اگر بنی گالاریگولرائز ہوسکتا ہے تو باقی کیوں نہیں،چیف جسٹس اہم کیس میں برہم

03:16 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے صرف بنی گالہ کو ریگولرائز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی دارالحکومت کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈے اے) آپریشن کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی۔دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے بنی گالہ کو ریگولرائز کرنے پر اظہار برہمی کیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈے اے) کے نمائندے سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بنی گالہ کو ریگولرائز کیا؟ جس پر نمائندہ کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈے اے) نے جواب دیا کہ بنی گالہ ریگولرائزیشن کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔جس پر صرف بنی گالہ کو ریگولرائز کرنے کے بیان پر عدالت کا شدید اظہار برہمی کیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بنی گالہ کو اگر ریگولرائز کررہے ہیں تو پھر باقیوں کو کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر بنی گالہ میں آپریشن نہیں کررہے تو کھوکھوں کو کیوں گرایا گیا ؟ بنی گالہ میں غریب نہیں، امیر رہتے ہیں، اسی لیے سی ڈی اے ریگولرائز کر رہا ہے؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے چیئرمین سی ڈی اے نے تاحال رپورٹ کیوں جمع نہیں کروائی؟ سماعت کے دوران جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا ہم چیئرمین سی ڈی اے کو توہین عدالت میں طلب کرلیں؟ عدالت نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے اکاؤنٹس غیر منجمد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے چئیرمین سی ڈی اے کو رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت کو 22 اکتوبر تک ملتوی کردیا۔