09:03 am
10 اکتوبر کو حکومت کو یہ کمر توڑ جھٹکا لگ سکتا ہے

10 اکتوبر کو حکومت کو یہ کمر توڑ جھٹکا لگ سکتا ہے

09:03 am

لاہور (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے تحفظات کے باوجود بالآخر آزادی مارچ اور دھرنا کی تاریخ کا اعلان کر ہی دیا، اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں اب کمرہ امتحان میں جا بیٹھی ہیں۔ بلاول بھٹو اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ مولانا کے احتجاج میںنامور کالم نگار خاور نعیم ہاشمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔تو شریک ہوں گے لیکن دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ن لیگ کے صدر شہباز شریف کی کمر میں پھر درد نکل آیا ہے۔
سنا جا رہا ہے کہ نواز شریف مولانا کا ساتھ دینے کا حکم صادر کر چکے ہیں۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا ہے کہ ن لیگ مولانا کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ ہمارے خیال میں مولانا اکیلے نکلیں یا پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ساتھ، دونوں صورتوں میں عمران خان اور ان کی حکومت کے لئے فی الحال کوئی خطرہ نہیں ، کیونکہ مولانا کے آزادی مارچ اور دھرنا کا تو مقصد ہی کچھ اور ہے۔ شیخ رشید مولانا کے احتجاج کے بارے میں جو جو بھی فرما رہے ہیں، میں اسے سچ اس لئے سمجھ رہا ہوں کہ،، مولانا اور شیخ رشید ایک ہی’’استاد ‘‘ کے شاگرد ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے مولانا کے ساتھ بہت ٹال مٹول کر لی، اب وہ دونوں جماعتوں سے اس ٹال مٹول کا بدلہ لیں گے۔ ویسے بھی مولانا صاحب کے احتجاج کا اصل ٹارگٹ بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہی ہیں، وہ بلاول بھٹو اور نواز شریف کو ٹریپ کرنا چاہتے تھے اور اس میں وہ بہت حد تک کامیاب ہو چکے ہیں۔ ستائیس اکتوبر ابھی بہت دور ہے، اس دوران اور اس تاریخ سے پہلے سیاست کئی قلابازیاں کھائے گی۔ ٭٭٭٭٭ پی ٹی آئی حکومت کے لئے ستائیس اکتوبر سے زیادہ دس اکتوبر کا دن ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان اس دن حکمران پارٹی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں