07:35 am
جنرل باجوہ نواز شریف کے پاس کس کی شکایت لے کر گئے تھے

جنرل باجوہ نواز شریف کے پاس کس کی شکایت لے کر گئے تھے

07:35 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)’’ہم آپ کیساتھ تعاون کریں گے آپ ہماری ایک بات مان لیں ‘‘جنرل باجوہ نواز شریف کے پاس کس کی شکایت لے کر گئے تھے۔۔۔ معروف صحافی ہارون الرشید نے کہا کہ ن لیگ میں کئی اختلافات موجود ہیں۔قانون پر عمل ہو تو ملک چلتے ہیں۔ن لیگ میں ایک گروپ موجود ہے جو تصادم نہیں چاہتے۔جن میں شہباز شریف اور خواجہ آصف شامل ہیں۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر بار نواز شریف کی غلطی ہو، غلطی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے بھی ہو سکتی ہے۔ اور میں اس بات کا گواہ ہوں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تعاون کرنے کی کوشش کی۔اور تعاون کرنا بھی چاہئیے تھا کیونکہ آرمی چیف کا کام ہے تعاون کرنا۔ڈان لیکس کے معاملے پر آرمی چیف نواز شریف کے پاس شکایت لے کر گئے تھے کہ فوجی افسران ڈان لیکس کے معاملے پر شکایت کرتے ہیں اس کے خلاف کوئی ایکشن لیں۔
ہارون الرشید نے مزید کہا کہ مریم نواز کو تو پہلے ہی نکال چکے تھے۔ خیال رہے کہ ق لندن میں مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ، ڈان لیکس میٹنگ کے دوران جو کچھ کہا گیا وہ میں نے ہی کہا تھا، لیکن میرے مشورے ماننے کی بجائے ڈان لیکس کا تنازعہ کھڑا کر دیا گیا، اب جیل جانا پڑے یا پھانسی پر چڑھایا جائے، لیکن اب ان کے قدم نہیں رکیں گے،اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار منصور علی خان نے کہا کہ ڈان لیکس ون جو ہوا تھا اس میں راحیل شریف نے سیٹلمنٹ کر لی تھی ، ڈاکٹر فرخ سلیم سے گزارش ہے کہ اپنی اس بات کی وضاحت کر دیں جس پر سینئیر تجزیہ کارفرخ سلیم نے کہا کہ میں تو جو کہنا چاہتا تھا وہ کہہ گیا ، راحیل شریف جاتے جاتے اس ملبے کو دفنا گئے اور اس کے عوض کچھ وصول کر گئے، جس پر منصور علی خان نے کہا کہ سابق آرمی چیف پر آپ یہ بہت بڑا الزام عائد کر رہے ہیں ۔ اگر آرمی چیف نے اتنی بڑی ڈیل کی اور ملک کی سکیورٹی کے خلاف اتنا بڑا کام کیا تو اس معاملے کو سپریم کورٹ لے کر جانا چاہئیے۔ جس پر پروگرام میں موجود سابق سیکرٹری دفاع نے کہا کہ میرا خیال یہ ہے کہ یہ بات غلط فہمی پر مبنی ہے ، کیونکہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے کوئی ڈیل نہیں کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی خاتون موجود تھیں لہٰذا اس بات کا لحاظ ضرور رکھا گیا کہ ان کا نام اچھالا جائے۔ باقی وہ ڈٹے رہے اور جس جس پر شک تھا جب تک ان کو سزا نہیں ملی وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔یا درہے کہ معروف صحافی رؤف کلاسرا نے بھی اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے خود فون کر کے مریم نواز کو مبارکباد دی تھی اور کہا تھا کہ آپ کا نام ہم نے ڈان لیکس سے نکال دیا ہے۔ اس کے بدلے جنرل راحیل شریف مدت ملازمت میں توسیع چاہتے تھے ، اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر بھی اس حق میں تھے کہ راحیل شریف کو مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع دی جائے، کیونکہ ایک سال تک وہ خود اس پوزیشن میں آجاتے کہ وہ آرمی چیف کے عہدے کے لیے منتخب ہو سکتے تھے،جنرل راحیل کو یہی لالچ دی گئی تھی کہ ڈان لیکس سے مریم نواز کا نام نکال دیں گے تو آپ کو توسیع دے دی جائے گی۔