02:48 pm
شہباز شریف نے حکومت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا

شہباز شریف نے حکومت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا

02:48 pm

اسلام آباد ر(مانیٹرنگ ڈیسک)شہباز شریف نے حکومت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا ۔۔ جہاں ایک طرف ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے نواز شریف سے ملاقات کرنے سے انکار کیا ہے وہیں یہ تاثر بھی ہایا جا رہا ہے کہ مقتدر حلقوں میں شہباز شریف نرم گوشہ رکھتے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے بھی شہباز شریف سے متعلق کچھ ایسا ہی اشارہ دیا ہے جس سے یہ پیغام مل رہا ہے کہ شہباز شریف کسی بھی صورت تصادم کی سیاست نہیں چاہتے۔
وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ن لیگ میں دھڑے بندی ہو گئی ہے۔شہباز شریف حکومت کی طرف سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں۔فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ 2014ء میں پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران بھی قانون حرکت میں آیا تھا۔اب بھی قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہا ن لیگ دھڑے بندی کا شکار ہو گئی ہے۔ شہباز شریف حکومت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں۔لیکن حکومت کسی بھی کرپشن زدہ آدمی کا ہاتھ نہیں تھامے گی۔جب کہ دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں چار بار وزیرِاعظم بننے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں اجلاس میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انہیں چار بار وزیر اعظم کی پیشکش ہوئی جسے انہوں نے ٹھکرادیا، نواز شریف سے بغاوت کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ شہباز شریف نے اپنے خدشات اور تحفظات کے باوجود نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور نواز شریف کو دیے گئے اپنے مشوروں پر بھی پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف مجھے جو حکم دیں گے وہی میرا فیصلہ ہوگا، میری رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن فیصلے کا اختیار نواز شریف کا ہی ہے۔خیال رہے کہ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے شہباز شریف کو بطور وزیراعظم آپشن نمبر ٹو پر رکھا ہوا ہے۔اور عمران خان کی حکومت ناکام ہونے کی صورت میں انہیں اقتدار میں لایا جا سکتا ہے۔