05:06 pm
پاکستان کے تسلی بخش اقدامات، کیا اب بھی نام بلیک لسٹ میں شامل ہوگا، ایف ٹی ایف نےبتادیا

پاکستان کے تسلی بخش اقدامات، کیا اب بھی نام بلیک لسٹ میں شامل ہوگا، ایف ٹی ایف نےبتادیا

05:06 pm

پیرس (نیوز ڈیسک) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو ابتدائی طور پر تسلی بخش قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس جاری ہے۔ جس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کررہے ہیں۔وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ کا جائزہ لیا، ابتدائی طور پر پاکستان کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے
تاہم پاکستان کی طرف سے ایکشن پلان پرعملدرآمد کے نکات پر ابھی مزید 2 دن غور کیا جائے گا۔پاکستان نے نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ اسٹڈی مکمل کرکے 150 صفحات کی رپورٹ بھجوائی تھی، جس میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے 12 سے زائد صفحات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں اور استغاثہ سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف پاکستان کے حالیہ اقدامات سے مطمئن ہوئی تو اسے ’گرے ایریا‘ کی فہرست سے خارج کرنے کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔ ناکافی پیش رفت کی وجہ سے پاکستان کے بارے اگلی سطح کے اقدامات لینے پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کے ليے 12 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔پاکستان کے اقدامات سے ایف اے ٹی ایف کے مطمئن ہونے سے اسے گرے ایریا کی فہرست سے خارج کرنے کی کارروائی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 18 اکتوبر تک جاری رہے گا جس میں 205 ممالک اور عالمی تنظیمیں شرکت کریں گی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کا نام گرے ایریا سے نکالا جائے گا یا بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ گر پاکستان کے اقدامات سے ایف اے ٹی ایف مطمئن ہوا تو اسے ’گرے ایریا‘ کی فہرست سے خارج کرنے کی کاروائی کا آغاز ہو سکتا ہے۔'دیگر صورت میں ایف اے ٹی ایف ناکافی پیش رفت کی وجہ سے پاکستان کے بارے اگلی سطح کے اقدامات لینے کے بارے میں غور کرے گی۔ اس کے علاوہ روس اور ترکی کے ان اقدامت پر بھی غور ہو گا جو انھوں نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے کیے ہیں۔ پاکستان، ایران اور چند دیگر ممالک جو موجودہ عالمی مالی نظام کے لیے 'خطرہ' ہیں، ان کے اقدامات کی پیش رفت پر 14 اور 15 اکتوبر کو غور کیا جائے گا۔