05:44 pm
فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے کوئی کمیٹی تشکیل دی نہ کسی کو ٹاسک سونپا،پرویز خٹک

فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے کوئی کمیٹی تشکیل دی نہ کسی کو ٹاسک سونپا،پرویز خٹک

05:44 pm

پشاور(آن لائن) وزیر دفاع پرویزخٹک نے کہاہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مزاکرات کے لیے وزراء کی کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی اور نہ ہی کسی کو یہ ٹاسک سونپا گیا ہے، اپوزیشن جماعتیں اور میڈیا بے پرکیاں اڑارہے ہیں ،مولانا 31 اکتوبر کو اسلام اباد پہنچیں گے تو پھر دیکھیں گے جمہوریت کے دعویداروں کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے سب سن لیںPTI کی حکومت پانچ سال کی ائینی مدت پوری کریں گی اور 2023 کے انتخابات میں ایک بار پھر عوام کے ووٹوں سے پی ٹی ائی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گی ملک میں مڈٹرم انتخابات بالکل نظر نہیں اتے ملک پہلے سے معاشی بحران کا شکار ہے
عمران خان معیشت کو سنھبالا دینے اور بحران کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے بھارت کچھ بھی کرلیں کشمیر بنے گا پاکستان وہ اتوار کے روز ویلج ناظم نواز خان کے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پی ٹی ائی میں شمولیت عراق اباد میں واجد ٹھیکدار کے استقبالیے سے خطاب اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل محمد ریاض خان ایڈوکیٹ کے صاحبزادوں حسن ریاض اور حسین ریاض کی دعوت ولیمہ کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی وزیر لیاقت خان خٹک،چیئرمین مجلس قائمہ برائے توانائی و قدرتی وسائل ڈاکٹر عمران خٹک، ڈیڈک کے چیئرمین ادریس خٹک، ایم پی اے میاں جمشید الدین کا کاخیل، اور دیگر بھی موجود تھے پرویز خٹک نے پی ٹی ائی میں شامل ہونے والوں کو پارٹی ٹوپیاں پہنائی اور ان کا خیر مقدم کیا پرویز خٹک نے کہا کہ پی ٹی ائی اس ملک بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں مختلف دینی اور سیا سی جماعتوں سے باشعور کارکن پی ٹی ائی میں شامل ہورہے ہیں جو عمران خان کی قیادت پر بھر پورا عتماد کا مظہر ہے انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں کے اے این پی کے میاں افتخار حسین کو کس نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ میرے قیاد ت میں وزراء کی کمیٹی تشکیل دی اگر مزاکرات کے زریعے ازادی مارچ ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس پر غور کرسکتے ہیں تشدد توڑ پوڑ اور املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے ہم 126 دن کا دھرنہ ضرور دیا مگر ہم نے ایک گملا تک نہیں توڑا اور ہم ایک مقصد کے لیے دھرنا دے رہے تھے جولوگ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی بات کررہے تھے وہ ازادی مارچ کے زریعے ملک سلامتی اور بقاء کی لیے خطر ہ بن رہے ہیں ایک طر ف کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ بھارت ناروا سلوک کررہا ہے دوسری پاکستان اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کررہا ہے یہ وقت قومی یکجہتی کا ہے