06:49 pm
جے یوآئی رہنما اور جنرل (ر)غلام مصطفیٰ میں شدید جھڑپ

جے یوآئی رہنما اور جنرل (ر)غلام مصطفیٰ میں شدید جھڑپ

06:49 pm

نجی ٹی وی چینلپر کامران شاہد کے پروگرام کے دوران اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جے یو آئی (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ اور جنرل(ر) غلام مصطفیٰ کے مابین نجی ٹی وی چینل کے پروگرام لفظی نوک جھوک اور بحث و تکرار ہو گئی ۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کے دوران جنرل(ر) غلام مصطفیٰ نے سربراہ جے یو آئی (ف) فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مولانا کو اپنا ماضی یاد رکھنا چاہیے اور وہ جو اب کہتے پھر رہے ہیں کہ کشمیر بیچ دیا گیاہے ۔ کیا انھیں ٹرمپ نے لکھ کر دیا ہے کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے۔کیسے بیچ دیا گیا ہے۔ پھر کیا ڈنڈا بردارجتھوں کو تیار کرناکسی جمہوری معاشرے میں قومی سلامتی اداروں کی توہین نہیں ہے۔ اس پر مفتی کفایت اللہ نے جنرل (ر) غلام مصطفیٰ سے مخاطب ہوتے ہوئےکہا کہ آپ پبلک سرونٹ ہیں۔ ابھی بھی اس ملک سے آپ کو تنخواہ مل رہی ہے۔ آپ اپنی حد میں رہیں اور غیر جانبدار رہیں۔
آپ کو ایک دفاعی تجزیہ کار کے طور پر پروگراموں میں شریک ہونا چاہیے اور لوگوں کو بتانا چاہیے کہ جب جنگ چھڑ جائے تو کون سا اسلحہ کیسے استعمال کیا جائے۔ میں یہ بھی بتاتاچلوں کہ الیکشن میں ایک آدمی آیا تھا ۔ اس نے منہ چھپایا اور بغل میں پستول رکھا ہوا تھا۔اور اس نے ووٹروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ وہ نہیں ہیں جو آپ لوگوں نے دیے ہیں۔ ووٹ وہ ہیں جو ہم لوگ دیں گے۔اس نے کسی کو بھی فارم 45کو ہاتھ نہیں لگانے دیا۔ اور یہ جو آپ کہہ رہے ہیںکہ ایم ایم اے آپ نے بنائی تھی۔ آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ایم ایم اے آپ نے نہیں بنائی تھی بلکہ آپ کے خلاف بنائی گئی تھی۔آپ لوگ کچھ بنا نہیں سکتے صرف اسے روک سکتے ہیں۔ ملکی تاریخ میں ہمیشہ آپ لوگوں نے دھرنے کروائے ہیں ۔آج اگر کوئی آزاد دھرنا ہونے جارہا ہے تو آپ لوگ حکومت کے جانبدار بنے ہوئے ہیں۔مفتی کفایت اللہ کی باتوں پر جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے انھیں سختی سے ٹوکنے کی کوشش کی تو جے یوآئی رہنما نے انھیں مخاطب ہو کر کہا جنرل جی! آپ بد تمیزی سے بات کریں گے تو میں آپ کو بات نہیں کروں گا۔